تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 233

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۳ سورة محمد جہنم ہے نہ اس میں وہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔سو اس جگہ خدا نے مُجر ما کہا مُذيبا نہیں کہا کیونکہ بعض صورتوں میں معصوم کو بھی مذہب کہہ سکتے ہیں مگر مجرم نہیں کہہ سکتے اس پر ایک اور دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ سورة آل عمران میں یہ آیت ہے وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا أتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَب وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا اَقْرَرْنَا (ال عمران : ۸۲) اس آیت سے بنص صریح ثابت ہوا کہ تمام انبیاء جن میں حضرت میسیج بھی شامل ہیں مامور تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاویں اور انہوں نے اقرار کیا کہ ہم ایمان لائے اور پھر جب آیت واسْتَغْفِرُ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ کو اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور ذنب سے مراد نعوذ باللہ جرم لیا جائے تو حضرت عیسیٰ بھی اس آیت کی رو سے مجرم ٹھہریں گے کیونکہ وہ بھی اس آیت کی رو سے ان مومنین میں داخل ہیں جو آنحضرت پر ایمان لائے پس بلا شبہ وہ بھی مذہب ٹھیرے۔یہ مقام عیسائیوں کو غور سے دیکھنا چاہئے۔پس ان آیات سے بوضاحت تمام ثابت ہوا کہ اس جگہ ذنب بمعنی جرم نہیں ہے بلکہ انسانی کمزوری کا نام ذنب ہے جو قابل الزام نہیں۔اور مخلوق کی فطرت کے لئے ضروری ہے کہ یہ کمزوری اس میں موجود ہو اور کمزوری کا نام اس لئے ذنب رکھا ہے کہ انسان کی فطرت میں طبعاً یہ قصور اور کمی واقع ہے تا وہ ہر وقت خدا کا محتاج رہے اور تا اس کمزوری کے دبانے کے لئے ہر وقت خدا سے طاقت مانگتا رہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ بشری کمزوری ایک ایسی چیز ہے کہ اگر خدا کی طاقت اس کے ساتھ شامل نہ ہو تو نتیجہ اس کا بجز ذنب کے اور کچھ نہیں پس جو چیز موصل إلى الذنب ہے بطور استعارہ اس کا نام ذنب رکھا گیا اور یہ محاورہ شائع متعارف ہے کہ جو اعراض بعض امراض کو پیدا کرتے ہیں کبھی انہیں اعراض کا نام امراض رکھ دیتے ہیں پس کمزوری فطرت بھی ایک مرض ہے جس کا علاج استغفار ہے۔غرض خدا کی کتاب نے بشریت کی کمزوری کو ذنب کے محل پر استعمال کیا ہے اور خود گواہی دی ہے کہ انسان میں فطرتی کمزوری ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء :۲۹) یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے یہی کمزوری ہے کہ اگر الہی طاقت اس کے ساتھ شامل نہ ہوتو انواع اقسام کے گناہوں کا موجب ہو جاتی ہے پس استغفار کی حقیقت یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر دم اور ہر آن خدا سے مدد مانگی جائے اور اس سے درخواست کی جائے کہ بشریت کی کمزوری جو بشریت کا ایک ذنب ہے جو اس کے ساتھ لگا ہوا ہے ظاہر نہ ہوسو مداومت استغفار دلیل اس بات پر ہے کہ اس ذنب پر فتح پائی اور وہ ظہور میں نہ آسکا اور خدا کا