تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 232
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۲ سورة محمد طاقت طلب کرنے کی اس لئے ضرورت ہے کہ انسانی فطرت اپنی ذات میں تو کوئی کمال نہیں رکھتی بلکہ ہر دم خدا سے کمال پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی قوت نہیں رکھتی بلکہ ہر دم خدا سے قوت پاتی ہے اور اپنی ذات میں کوئی کامل روشنی نہیں رکھتی بلکہ خدا سے اُس پر روشنی اترتی ہے۔اس میں اصل راز یہ ہے کہ کامل فطرت کو صرف ایک کشش دی جاتی ہے تا وہ طاقت بالا کو اپنی طرف کھینچ سکے مگر طاقت کا خزانہ محض خدا کی ذات ہے اسی خزانہ سے فرشتے بھی اپنے لئے طاقت کھینچتے ہیں اور ایسا ہی انسان کامل بھی اسی سرچشمہ طاقت سے عبودیت کی نالی کے ذریعہ سے عصمت اور فضل کی طاقت کھینچتا ہے لہذا انسانوں میں سے وہی معصوم کامل ہے جو استغفار سے الہی طاقت کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کشش کے لئے تضرع اور خشوع کا ہر دم سلسلہ جاری رکھتا ہے تا اس پر روشنی اترتی رہے اور ایسے دل کو اس گھر سے تشبیہ دے سکتے ہیں جس کے شرق اور غرب اور ہر ایک طرف سے تمام دروازے آفتاب کے سامنے ہیں پس ہر وقت آفتاب کی روشنی اس میں پڑتی ہے لیکن جو شخص خدا سے طاقت نہیں مانگتا وہ اس کوٹھڑی کی مانند ہے جس کے چاروں طرف سے دروازے بند ہیں اور جس میں ایک ذرہ روشنی نہیں پڑ سکتی۔پس استغفار کیا چیز ہے یہ اس آلہ کی مانند ہے جس کی راہ سے طاقت اترتی ہے تمام را ز تو حید اسی اصول سے وابستہ ہے کہ صفت عصمت کو انسان کی ایک مستقل جائیداد قرار نہ دیا جائے بلکہ اس کے حصول کے لئے محض خدا کو سر چشمہ سمجھا جائے۔ذات باری تعالیٰ کو تمثیل کے طور پر دل سے مشابہت ہے جس میں مصفی خون کا ذخیرہ جمع رہتا ہے اور انسان کامل کا استغفار ان شرائین اور عروق کی مانند ہے جو دل کے ساتھ پیوستہ ہیں اور خون صافی اس میں سے کھینچتی ہیں اور تمام اعضا پر تقسیم کرتی ہیں جو خون کے محتاج ہیں۔یہ کہنا بالکل غلطی ہے کہ آیت وَاسْتَغْفِرْ لِذتبت میں ذنب کا لفظ موجود ہے جو گناہ کو کہتے ہیں کیونکہ ذنب اور جرم میں فرق ہے جرم کا لفظ تو ہمیشہ اس گناہ کے لئے آتا ہے جو سزا کے لائق ہوتا ہے مگر ڈنب کا لفظ بشریت کی کمزوری کے لئے بھی آجاتا ہے اسی لئے نبیوں پر انسانی کمزوری کی وجہ سے ڈنب کا لفظ اطلاق پایا ہے مگر جرم کا لفظ اطلاق نہیں پایا اور خدا کی کتاب میں کسی نبی کو مجرم کے لفظ سے نہیں پکارا گیا اور نیز خدا کی کتاب میں یعنی قرآن شریف میں مجرم کے لئے تو جہنم کی وعید ہے یعنی خدا کی طرف سے عہد ہے کہ وہ جہنم میں ڈالا جائے گا مگر مذہب کے لئے کوئی وعید نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَان لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَخيلى ( طه : ۷۵) یعنی جو شخص خدا کے پاس مجرم ہو کر آئے گا۔اس کی سزا