تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 208

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۸ سورة الجاثية ہے کہ اگر قرآن کریم کسی امر کی نسبت قطعی اور یقینی فیصلہ دیوے یہاں تک کہ اس فیصلہ میں کسی طور سے شک باقی نہ رہ جاوے اور منشاء اچھی طرح سے کھل جائے تو پھر بعد اس کے کسی ایسی حدیث پر ایمان لانا جو صریح اس کے مخالف پڑی ہو مومن کا کام نہیں ہے۔پھر فرماتا ہے فبای حدیثٍ بَعْدَ ثَايُؤْمِنُونَ ( الاعراف : ١٨٦) - ان دونوں آیتوں کے ایک ہی معنی ہیں اس لئے اس جگہ تصریح کی ضرورت نہیں۔سو آیات متذکرہ بالا کے رو سے ہر ایک مومن کا یہ ہی مذہب ہونا چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کو بلا شرط اور حدیث کو شرعی طور پر حجت شرعی قرار دیوے اور یہی میرا مذہب ہے۔الحق مباحث لد صیانه، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۲ ) بعد اللہ جل شانہ کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے؟ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف ترغیب ہے کہ ہر ایک قول اور حدیث کتاب اللہ پر عرض کر لینا چاہیے۔اگر کتاب اللہ نے ایک امر کی نسبت ایک فیصلہ ناطق اور مؤید دے دیا ہے جو قابل تغیر اور تبدیل نہیں تو پھر ایسی حدیث دائرہ صحت سے خارج ہوگی جو اس کے مخالف ہے لیکن اگر کتاب اللہ فیصلہ مؤیدہ اور ناقابل تبدیل نہیں دیتی تو پھر اگر وہ حدیث قانون روایت کے رو سے صحیح ثابت ہو تو ماننے کے لائق ہے۔غرض قرآن ایسی مجمل کتاب نہیں جو کبھی اور کسی صورت میں معیار کا کام نہ دے سکے جس کا ایسا خیال ہے بے شک وہ سخت نادان ہے بلکہ ایمان اس کا خطرہ کی حالت میں ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۰۸،۱۰۷) فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَالتِهِ يُؤْمِنُونَ یہ ایک قسم کی پیشگوئی ہے جو ان وہابیوں کے متعلق ہے۔(البدر جلد نمبر ۵، ۶ مورخه ۲۸ نومبر و ۵/ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۴۶) وَيْلٌ لِكُلّ أَفَاكِ أَثِيمٍ لا يَسْمَعُ أَيْتِ اللهِ تُتْلَى عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا ج كَان لَّمْ يَسْمَعُهَا فَبَشِّرُهُ بِعَذَابٍ أَلِيم۔لعنت ہے مفتری گنہ گار پر جو خدا کی آیتوں کو سنتا ہے پھر تکبر کی راہ سے انکار پر اصرار کرتا ہے گویا کچھ بھی نہیں عنا۔پس اس کو تو درد ناک عذاب کی بشارت دے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۹) وَ لَقَد أَتَيْنَا بَنِي إِسْرَاءِيلَ الْكِتَب وَالْحُكْمَ وَالنُّبوَة وَرَزَقْنَهُمْ مِنَ الطيبت و فَضَّلْتُهُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ ، وَ أَتَيْنَهُمْ بَيِّنَةٍ مِنَ الْأَمْرِ : فَمَا اخْتَلَفُوا الاَ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ فِيمَا كَانُوا