تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 179
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۹ سورة الشورى الہام کا بڑا نازک معاملہ ہے۔انسان کو اپنے اعمال صاف کرنا چاہیے۔الہام کا مہبط صاف ہونا چاہیے۔اب جو خدا تعالیٰ کی چلائی ہوئی ہوا چل رہی ہے یہی ہوا بعض انسانوں کے جسموں کے لئے مفید اور بعضوں کے لئے مفسد ہوگی۔اگر کسی کا اندر غلیظ ہو۔معدہ گندہ ہو اور بیمار ہو تو اس کو اچھی غذا مضر ہوگی ایسا ہی خدا کا کلام ہے۔الحکم جلد نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۹) اولیاء اللہ سے ملہم من اللہ ہونے سے انکار کرنا ہر ایک مسلمان سے بعید ہے اور مولوی صاحبوں سے بعید تر۔کیا مولوی صاحب کو معلوم نہیں کہ حضرت موسیٰ کی والدہ سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا۔مریم سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا۔حواریوں سے بطور الہام خدا کا کلام کرنا خود قرآن شریف میں مندرج اور مرقوم ہے حالانکہ ان سب میں سے نہ کوئی نبی تھا اور نہ کوئی رسول تھا۔برا تین احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۲، ۲۴۳ حاشیه در حاشیه نمبر۱) یہ الزام کہ صحابہ کرام سے ایسے الہامات ثابت نہیں ہوئے بالکل بے جا اور غلط ہے کیونکہ احادیث صحیحہ کے رو سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے الہامات اور خوارق بکثرت ثابت ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ساریہ کے لشکر کی خطرناک حالت سے با علام الہی مطلع ہو جانا جس کو بیہقی نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اگر الہام نہیں تھا تو اور کیا تھا اور پھر اُن کی یہ آواز کہ يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ الْجَبَل مدینہ میں بیٹھے ہوئے مونہہ سے نکلنا اور وہی آواز قدرتِ غیبی سے ساریہ اور اس کے لشکر کو دور دراز مسافت سے سنائی دینا اگر خارق عادت نہیں تھی تو اور کیا چیز تھی۔اسی طرح جناب علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کے بعض الہامات و کشوف مشہور و معروف ہیں۔( براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۵۳، ۶۵۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۴) صاحب وحی محدثیت اپنے نبی متبوع کا پورا ہمرنگ ہوتا ہے اور بغیر نبوت اور تجدید احکام کے وہ سب باتیں اُس کو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتی ہیں اور اُس پر یقینی طور پر سچی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اُس پر سب امور بطور انعام کرام کے وارد ہو جاتے ہیں جو نبی متبوع پر وارد ہوتے ہیں سواس کا بیان محض انکلیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے اور سُن کر بولتا ہے اور یہ راہ اس اُمت کے لئے کھلی ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے۔بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۱،۲۰) محدث وہ لوگ ہیں جو شرف مکالمہ الہی سے مشرف ہوتے ہیں اور اُن کا جو ہر نفس انبیاء کے جو ہر نفس سے اشتر مشابہت رکھتا ہے اور وہ خواص عجیبہ نبوت کے لئے بطور آیات باقیہ کے ہوتے ہیں تا یہ دقیق مسئلہ