تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 159
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ٧،٦ )۔۱۵۹ سورة الشورى ( نزول الصبیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۸۷) قرآن شریف پر شریعت ختم ہو گئی مگر وحی ختم نہیں ہوئی کیونکہ وہ بچے دین کی جان ہے جس دین میں وحی الہی کا سلسلہ جاری نہیں وہ دین مردہ ہے اور خدا اس کے ساتھ نہیں۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۴ حاشیه ) یہ خیال مت کرو کہ خدا کی وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور روح القدس اب اُتر نہیں سکتا بلکہ پہلے زمانوں میں ہی اُتر چکا۔اور میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہر یک دروازہ بند ہو جاتا ہے مگر روح القدس کے اُترنے کا کبھی دروازہ بند نہیں ہوتا تم اپنے دلوں کے دروازے کھول دو تا وہ ان میں داخل ہو تم اُس آفتاب سے خود اپنے تئیں ڈور ڈالتے ہو جبکہ اُس شعاع کے داخل ہونے کی کھڑکی کو بند کرتے ہو۔اے نادان اٹھے اور اس کھڑکی کو کھول دے تب آفتاب خود بخود تیرے اندر داخل ہو جائے گا جبکہ خدا نے دنیا کے فیضوں کی راہیں اس زمانہ میں تم پر بند نہیں کیں بلکہ زیادہ کیں تو کیا تمہارا ظن ہے کہ آسمان کے فیوض کی راہیں جن کی اس وقت تمہیں بہت ضرورت تھی وہ تم پر اُس نے بند کر دی ہیں ہر گز نہیں بلکہ بہت صفائی سے وہ دروازہ کھولا گیا کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۵،۲۴) ہے۔تم صدق اور راستی اور تقویٰ اور محبت ذاتیہ الہیہ میں ترقی کرو اور اپنا کام یہی سمجھو جب تک زندگی ہے پھر خدا تم میں سے جس کی نسبت چاہے گا اُس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے بھی مشرف کرے گا۔تمہیں ایسی تمنا بھی نہیں چاہیے تا نفسانی تمنا کی وجہ سے سلسلہ شیطانیہ شروع نہ ہو جائے جس سے کئی لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۸) متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ سے کبھی منقطع نہیں ہوگی مگر بہوت شریعت والی یا موت مستقلہ منقطع ہو چکی ہے۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۳) جبکہ خدا تعالیٰ کا جسمانی قانون قدرت ہمارے لئے اب بھی وہی موجود ہے جو پہلے تھا تو پھر روحانی قانونِ قدرت اس زمانہ میں کیوں بدل گیا ؟ نہیں ہر گز نہیں بدلا۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وحی الہی پر آئندہ کے لئے مہر لگ گئی ہے وہ سخت غلطی پر ہیں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۰) یا درکھو خدا تعالی ہر گز ایسے شخص کو ضائع نہیں کرتا جو اس کی جستجو میں قدم رکھتا ہے۔وہ یقینا ہے اور جیسے