تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 153

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۳ سورة الشورى دری سے بچا لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ افلاطون کی طرح اسلام کے کسی فلاسفر نے کسی بت پر مرغ کی قربانی نہ چڑھائی۔چونکہ افلاطون الہام کی روشنی سے بے نصیب تھا۔اس لئے دھوکا کھا گیا اور ایسا فلاسفر کہلا کر یہ مکروہ اور احمقانہ حرکت اس سے صادر ہوئی۔مگر اسلام کے حکماء کو ایسی ناپاک اور احمقانہ حرکتوں سے ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نے بچا لیا۔اب دیکھو کیسا ثابت ہوا کہ الہام عقلمندوں کا رات کی طرح پردہ پوش ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۲۶ تا ۴۲۸) وہ نور جس سے انسان کی آنکھ کھل کر اس کو ایقان تام حاصل ہو جاوے وہ صرف الہام ہی پر منحصر ہے۔الہام سے انسان کو ایک نور ملتا ہے جس سے وہ ہر تاریکی سے مبرا ہو جاتا ہے اور ایک قسم کا اطمینان اور تسلی اسے ملتی ہے۔اس کا نفس اس دن سے خدا میں آرام پانے لگتا ہے اور ہر گناہ فسق و فجور سے اس کا دل ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے۔اس کا دل امید اور بیم سے بھر جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حقیقی معرفت کی وجہ سے وہ ہر وقت ترساں لرزاں رہتا ہے اور زندگی کو نا پائیدار جانتا اور سفلی لذات کی ہوس اور خواہش کو ترک کر کے خدا تعالی کی رضا کے حصول میں لگ جاتا ہے اور درحقیقت وہ اسی وقت گناہ کی آلودگی سے علیحدہ ہوتا ہے۔جب تک تازہ نور انسان کو آسمان پر سے نہ ملے اور خدا تعالیٰ کا مشاہدہ نہ ہو جاوے تب تک پورا ایمان نہیں ہوتا۔جب تک ایمان کمال درجہ تک نہ پہنچا ہو تب تک گناہ کی قید سے رہائی ناممکن ہے۔بجز الہام کے ایمان کی تصویر لوگوں کے پاس ہوتی ہے اس کی ماہیت سے لوگ بے بہرہ اور خالی محض ہوتے ہیں۔الحکم جلد نمبر ۱۴ مورخه ۱/۱۷ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۵) اس مسلمان سے کون زیادہ بد نصیب ہے جس کو خدا تعالیٰ وعدہ دیتا ہے کہ میں اپنے کلام سے مشرف کروں گا مگر وہ اس کی طرف توجہ نہ کرے۔یہ خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اور اسلام سے خاص ہے کسی آریہ سے پوچھو کہ تم وعدہ ہی دکھاؤ وہ یہ بھی نہیں دکھا سکتے۔ماتم زدہ اور مردہ وہ مذہب ہے جس کے الہام پر مہر لگ گئی اور ویران اور اُجڑا ہوا وہ باغ ہے جس پر خزاں کا قبضہ ہو چکا لیکن ربیع کا اثر اس پر نہیں ہوسکتا۔کیسے افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ انسانی فطرت پر تو مہر نہ لگی۔اس میں تو معرفت حقیقی کی وہی بھوک پیاس موجود ہے لیکن الہام پر مہر لگادی گئی جو معرفت الہی کا سر چشمہ تھا۔افسوس بھوک میں غذا پھینک دی گئی اور پیاس کی حالت میں پانی لے لیا گیا۔احکام جلد ۱۱ نمبر ۳ مورخہ ۲۴ جنوری۱۹۰۷ء صفحہ ۷ )