تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 152

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۲ سورة الشورى کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے۔وہ دقیق در دقیق وجود جس نے عقلی طاقتوں کو خیرہ کر رکھا ہے اور تمام حکیموں کی عقل اور دانش کو سکتہ میں ڈال دیا ہے وہ الہام ہی کے ذریعہ سے کچھ اپنا پتہ دیتا ہے اور انا الموجود کہہ کر سالکوں کے دلوں کو تسلی بخشتا ہے اور سکینت نازل کرتا ہے اور انتہائی وصول کی ٹھنڈی ہوا سے جان پڑ مردہ کو تازگی (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲۷) بخشتا ہے۔خدا نے اپنے بدیہی کاموں کو نظری کاموں کے کھولنے کے لئے بطور گواہ کے پیش کیا ہے۔گویا وہ فرماتا ہے کہ اگر تم ان خواص سے شک میں ہو جو نفس ناطقہ انسانی میں پائے جاتے ہیں تو چاند اور سورج وغیرہ میں غور کرو کہ ان میں بدیہی طور پر یہ خواص موجود ہیں اور تم جانتے ہو کہ انسان ایک عالم صغیر ہے جس کے نفس میں تمام عالم کا نقشہ اجمالی طور پر مرکوز ہے۔پھر جب کہ یہ ثابت ہے کہ عالم کبیر کے بڑے بڑے اجرام یہ خواص اپنے اندر رکھتے ہیں اور اسی طرح پر مخلوقات کو فیض پہنچارہے ہیں تو انسان جو ان سب سے بڑا کہلاتا ہے اور بڑے درجہ کا پیدا کیا گیا ہے وہ کیوں کر ان خواص سے خالی اور بے نصیب ہوگا۔نہیں بلکہ اس میں بھی سورج کی طرح ایک علمی اور عقلی روشنی ہے جس کے ذریعہ سے وہ تمام دنیا کو منور کر سکتا ہے اور چاند کی طرح وہ حضرت اعلیٰ سے کشف اور الہام اور وحی کا نور پاتا ہے اور دوسروں تک جنہوں نے انسانی کمال ابھی تک حاصل نہیں کیا اس نور کو پہنچاتا ہے۔پھر کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ نبوت باطل ہے اور تمام رسالتیں اور شریعتیں اور کتابیں انسان کی مکاری اور خود غرضی ہے۔یہ بھی دیکھتے ہو کہ کیوں کر دن کے روشن ہونے سے تمام راہیں روشن ہو جاتی ہیں۔تمام نشیب و فراز نظر آ جاتے ہیں۔سو کامل انسان روحانی روشنی کا دن ہے۔اس کے چڑھنے سے ہر ایک راہ نمایاں ہو جاتی ہے، وہ کچی راہ کو دکھلا دیتا ہے کہ کہاں اور کدھر ہے کیونکہ راستی اور سچائی کا وہی روز روشن ہے۔ایسا ہی یہ بھی مشاہدہ کر رہے ہو کہ رات کیسی تھکوں ماندوں کو جگہ دیتی ہے۔تمام دن کے شکستہ کوفتہ مزدور رات کے کنار عاطفت میں بخوشی سوتے ہیں اور محنتوں سے آرام پاتے ہیں اور رات ہر ایک کے لئے پردہ پوش بھی ہے۔ایسا ہی خدا کے کامل بندے دنیا کو آرام دینے کے لئے آتے ہیں۔خدا سے وحی اور الہام پانے والے تمام عقلمندوں کو جان کا ہی سے آرام دیتے ہیں۔ان کے طفیل سے بڑے بڑے معارف آسانی کے ساتھ حل ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی خدا کی وحی انسانی عقل کی پردہ پوشی کرتی ہے جیسا کہ رات پردہ پوشی کرتی ہے۔اس کی ناپاک خطاؤں کو دنیا پر ظاہر ہونے نہیں دیتی۔کیونکہ عقلمند وحی کی روشنی کو پاکر اندر ہی اندر اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لیتے ہیں اور خدا کے پاک الہام کی برکت سے اپنے تئیں پردہ