تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 137

۱۳۷ سورة الشورى تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام میں انتقامی حدود میں جو اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے کوئی دوسرا مذ ہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ یہ ہے کہ جَزْؤُا سَيِّئَةٍ سَيْئَةٌ مِثْلَهَا ، فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ الآية يعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے اور جو کوئی معاف کر دے مگر ایسے محل اور مقام پر کہ وہ عضو اصلاح کا موجب ہو۔اسلام نے عفو خطا کی تعلیم دی لیکن یہ نہیں کہ اس سے شتر بڑھے۔الحکام جلد ۱۰ نمبر ۷ ۳ مورخه ۱۷۲۴ کتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۳) کامل تعلیم وہ ہے جو اسلام نے پیش کی اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو ملی ہے اور وہ یہ ب جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ یعنی بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو۔لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخش دے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو، کوئی شر پید انہ ہوتا ہو تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے۔اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ خواہ نخواہ ضرور ہر مقام پر شر کا مقابلہ نہ کیا جاوے اور انتظام نہ لیا جاوے بلکہ منشاء الہی یہ ہے کہ محل اور موقعہ کو دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ موقعہ گناہ کے بخش دینے اور معاف کر دینے کا ہے یا سزا دینے کا۔اگر اس وقت سزا دینا ہی مصلحت ہو تو اس قدر سزا دی جائے جو سزاوار ہے اور اگر عفو کا محل ہے تو سزا کا خیال چھوڑ دو۔یہ خوبی ہے اس تعلیم میں کیونکہ وہ ہر پہلو کالحاظ رکھتی ہے۔اگر انجیل پر عمل کر کے ہر شریر اور بدمعاش کو چھوڑ دیا جاوے تو دنیا میں اندھیر چ جاوے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخه ۱۷ جون ۱۹۰۶ صفحه ۴) انجیل میں لکھا ہے کہ تو بدی کا مقابلہ نہ کر۔غرض انجیل کی تعلیم تفریط کی طرف جھکی ہوئی ہے اور بجر بعض خاص حالات کے ماتحت ہونے کے انسان اس پر عمل کر ہی نہیں سکتا۔دوسری طرف توریت کی تعلیم کو دیکھا جاوے تو وہ افراط کی طرف جھکی ہوئی ہے اور اس میں بھی صرف ایک ہی پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت توڑ دیا جاوے۔اس میں عفو اور درگزر کا نام تک بھی نہیں لیا گیا۔اصل بات یہ ہے کہ یہ کتا بیں مختص الزمان اور مختص القوم ہی تھیں مگر قرآن شریف نے ہمیں کیا پاک راہ بتائی ہے جو افراط اور تفریط سے پاک اور عین فطرت انسانی کے مطابق ہے مثلاً مثال کے طور پر قرآن شریف میں فرمایا ہے جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيْئَةٌ مِثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ یعنی جتنی بدی کی گئی ہو اسی قدر بدی کرنی جائز ہے مگر اگر کوئی معاف کر دے اور اس معافی میں اصلاح مدنظر ہو۔بے محل اور بے موقعہ عفو نہ ہو بلکہ برمحل ہو تو ایسے معاف کرنے والے کے واسطے اس کا اجر ہے جو اسے خدا سے ملے گا۔