تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 136

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۶ سورة الشورى مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ یعنی بدی کی سزا تو اسی قدر بدی ہے، مگر عفو بھی کرو تو ایسا عفو کہ اس کے نتیجہ میں اصلاح ہو وہ عفو بے محل نہ ہو۔مثلاً ایک فرماں بردار خادم ہے اور کبھی کوئی خیانت اور غفلت اپنے فرض ادا کرنے میں نہیں کرتا مگر ایک دن اتفاقا اس کے ہاتھ سے گرم گرم چاء کی پیالی گر جاوے اور نہ صرف پیالی ہی ٹوٹ جاوے بلکہ کسی قدر گرم گرم چائے سر پر بھی پڑ جاوے تو اس وقت یہ ضروری نہیں کہ آقا اس کو سزا دے بلکہ اس کی حسب حال سزا یہی ہے کہ اس کو معاف کر دیا جاوے۔ایسے وقت پر موقع شناس آقا تو خود شرمندہ ہو جاتا ہے کہ اس بیچارے نوکر کو شرمندہ ہونا پڑے گا لیکن کوئی شریر نو کر اس قسم کا ہے کہ وہ ہر روز نقصان کرتا ہے اگر اس کو عفو کر دیا جائے تو وہ اور بھی بگڑے گا۔اس کو تنبیہ ضروری ہے۔غرض اسلام انسانی قومی کو اپنے اپنے موقع اور محل پر استعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور انجیل اندھا دھند ایک ہی قوت پر زور دیتی چلی جاتی ہے گر حفظ مراتب نہ گئی زندیقی۔غرض حفظ مراتب کا مقام قرآن شریف نے رکھا ہے کہ وہ عدل کی طرف لے جاتا ہے۔احکام جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۵،۴) یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی معاف کر دے اور اس عفو میں اصلاح مد نظر ہو بگاڑ نہ ہو تو ایسے شخص کو خدا سے اجر ملے گا۔دیکھو قرآن شریف نے انجیل کی طرح ایک پہلو پر زور نہیں دیا بلکہ محل اور موقعہ کے موافق عفو یا سزا کی کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔عفو غیر محل نہ ہو۔ایسا عفو نہ ہو کہ اس کی وجہ سے کسی مجرم کو زیادہ جرات اور دلیری بڑھ جاوے اور وہ اور بھی گناہ اور شرارت میں ترقی کرے۔غرض دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھا ہے۔اگر عفو سے اس کی عادت بد جاتی رہے تو عضو کی تعلیم ہے اور اگر اصلاح سزا میں ہو تو سزا دینی چاہیے اور پھر اگر قرآن شریف کی اور باقی تعلیموں کو بھی زمانہ کے ساتھ مطابق کرنا چاہیں تو اور کوئی تعلیم اس کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ /اپریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۳) بدی کا بدلہ تو اسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور اس گناہ کے بخشنے میں وہ شخص جس نے گناہ کیا ہے اصلاح پذیر ہو سکے اور آئندہ اپنی بدی سے باز آ سکے تو معاف کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہوگا ورنہ سزا دینا بہتر ہوگا کیونکہ طبائع مختلف ہیں۔بعض ایسی ہی ہیں کہ گناہ معاف کرنے سے پھر اس گناہ کا نام نہیں لیتے اور باز آجاتے ہیں۔ہاں بعض ایسے بھی ہیں کہ قید سے بھی رہائی یا کر پھر وہی گناہ کرتے ہیں۔سوچونکہ انسانوں کی طبیعتیں مختلف ہیں اس لئے یہی تعلیم ان کے مناسب حال ہے جو قرآن شریف نے پیش کی ہے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۱۳)