تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page xvii
xvi نمبر شمار ۱۳۱ مضمون إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَابِدُونَ آیت صریح نص ہے کہ خدا تعالیٰ تضرع کو قبول کر کے عذاب ٹال دیتا ہے ۱۳۲ ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ یہ کلام نہایت غضب کا ہے ۱۳۳ لا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الأولى سے حضرت مسیح کی حیات کی تردید ۱۳۴ اگر کوئی حدیث قرآن کریم سے مخالف ہو تو ہر گز نہیں ماننی چاہیے ۱۳۵ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايْتِهِ يُؤْمِنُونَ کے لفظ حدیث میں ایک پیشگوئی ۱۳۶ دو متقابل سلسلوں ، سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمدیہ کا ذکر ۱۳۷ جس شخص کو آنحضرت صلعم کا پاس نہیں وہ بے ایمان ہے ۱۳۸ - مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دلیل ۱۳۹ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۲ محض الہام جب تک اس کے ساتھ فعلی شہادت نہ ہو ہر گز کسی کام کا نہیں پہلی کتابوں سے اجتہاد کرنا حرام نہیں اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولا داور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہیے انبیاء کے دشمنوں کے برخلاف خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سنن کے لحاظ بڑے توقف اور حلم کے ساتھ کام کرتا ہے ۱۴۳ حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا یعنی اس وقت تک لڑائی کرو جب تک کہ مسیح کا وقت آجائے صفحہ ۲۰۳ ۲۰۵ ۲۰۵ ۲۰۷ ۲۰۷ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۰ ۲۱۴ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۲۰