تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 130

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اجتہاد اور استخراج اور استنباط کی ترغیب دی ہے۔۱۳۰ سورة الشورى (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۸) فَانظُرُ إلى هذِهِ الرَّقِيقَةِ الرُّوحَانِيَّةِ فَإِنَّهُ اس بار یک روحانی نکتہ پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ أَمَرَ بِالْعَفْوِ عَنِ الْجَرِيمَةِ بِشَرطِ أَنْ يَتَحَقَّقَ فِيْهِ نے جُرم کو معاف کرنے کا اس شرط پر حکم دیا ہے کہ إصْلَاحُ لِنَفْسٍ وَإِلَّا فَجَزَاءُ السَّيِّئَةِ بِالسَّيِّئَةِ اس سے مجرم کے نفس میں اصلاح پیدا ہو ورنہ بدی کا (خطبہ الہامید روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۱۶) بدلہ اتنی ہی بدی ہے۔( ترجمہ از مرتب) اجر خدا پر ہے۔بدی کی پاداش میں اصولِ انصاف تو یہی ہے کہ بدکن آدمی اسی قدر بدی کا سزاوار ہے جس قدر اس نے بدی کی ہے پر جو شخص عفو کر کے کوئی اصلاح کا کام بجالائے یعنی ایسا عفو نہ ہو جس کا نتیجہ کوئی خرابی ہو سو اس کا (براہین احمدیہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۳۳، ۴۳۴ حاشیه در حاشیه ) اصولِ انصاف یہی ہے کہ جس کو دُکھ پہنچایا گیا ہے وہ اُسی قدر دُکھ پہنچانے کا حق رکھتا ہے لیکن اگر کوئی معاف کر دے اور معاف کرنا بے محل نہ ہو بلکہ اس سے اصلاح پیدا ہوتی ہو تو ایسا شخص خدا سے اجر پائے گا۔تحفہ قیصریه، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۸۲) قانون انصاف کی رُو سے ہر ایک بدی کی سزا اُسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے گنہ گار کو معاف کرے بشرطیکہ اُس معاف کرنے میں شخص مجرم کی اصلاح ہو نہ یہ کہ معاف کرنے سے اور بھی زیادہ دلیر ہو اور بیباک ہو جائے تو ایسا شخص خدا تعالیٰ سے بڑا اجر پائے گا۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۳) اگر کوئی تمہیں دُکھ پہنچاوے مثلاً دانت توڑ دے یا آنکھ پھوڑ دے تو اس کی سزا اسی قدر بدی ہے جو اس نے کی لیکن اگر تم ایسی صورت میں گناہ معاف کر دو کہ اس معافی کا کوئی نیک نتیجہ پیدا ہو اور اس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔یعنی مثلاً مجرم آئندہ اس عادت سے باز آجائے تو اس صورت میں معاف کرنا ہی بہتر ہے اور اس معاف کرنے کا خدا سے اجر ملے گا۔اب دیکھو اس آیت میں دونوں پہلو کی رعایت رکھی گئی ہے اور عفو اور انتقام کو مصلحت وقت سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔سو یہی حکیمانہ مسلک ہے جس پر نظام عالم کا چل رہا ہے رعایت محل اور وقت سے گرم اور سرد دونوں کا استعمال کرنا یہی عقلمندی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہم ایک ہی قسم کی غذا پر ہمیشہ زور نہیں ڈال سکتے بلکہ حسب موقع گرم اور سرد غذا ئیں بدلتے رہتے ہیں۔اور جاڑے اور گرمی کے وقتوں میں کپڑے بھی