تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 129

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۹ سورة الشورى کوئی اصلاح ہوتی ہو۔کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو۔یعنی عین عفو کے محل پر ہو۔نہ غیر محل پر تو اس کا وہ بدلہ پائے گا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ نخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے۔بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ محل اور موقع گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا ہے۔پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقعہ بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے تو بہ کرتا ہے۔اور بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے اور بھی دلیر ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اندھوں کی طرح صرف گناہ بخشنے کی عادت مت ڈالو۔بلکہ غور سے دیکھ لیا کرو کہ حقیقی نیکی کس بات میں ہے آیا بخشنے میں یا سزا دینے میں۔پس جو امر شکل اور موقع کے مناسب ہو وہی کرو۔افراد انسانی کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ جیسے بعض لوگ کینہ کشی پر بہت حریص ہوتے ہیں یہاں تک کہ دادوں پر دادوں کے کینوں کو یا در کھتے ہیں۔ایسا ہی بعض لوگ عفو اور درگزر کی عادت کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور بسا اوقات اس عادت کے افراط سے دیوثی تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور ایسے قابل شرم حلم اور عفو اور درگزران سے صادر ہوتے ہیں جو سراسر حمیت اور غیرت اور عفت کے برخلاف ہوتے ہیں بلکہ نیک چلنی پر داغ لگاتے ہیں اور ایسے عفو اور درگزر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب لوگ تو بہ توبہ کر اٹھتے ہیں۔انہیں خرابیوں کے لحاظ سے قرآن شریف میں ہر ایک خلق کے لئے محل اور موقع کی شرط لگا دی ہے اور ایسے خلق کو منظور نہیں رکھا جو بے محل صادر ہو۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۲،۳۵۱) قرآن شریف میں ایک جگہ تو یہ ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔یہ تو تفصیل ہے اور دوسری جگہ یہ اجمالی عبارت ہے کہ وَجَزْوُا سَيِّئَةٍ سَيْئَةٌ مِثْلُهَا۔پس جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجمالی عبارت توسیع قانون کے لئے بیان فرمائی گئی ہے۔کیونکہ بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں یہ قانون جاری نہیں ہو سکتا۔مثلاً ایک ایسا شخص کسی کا دانت توڑے کہ اس کے منہ میں دانت نہیں اور باعث کبرسنی یا کسی اور سبب سے اس کے دانت نکل گئے ہیں تو دندان شکنی کی سزا میں ہم اس کا دانت تو ڑ نہیں سکتے۔کیونکہ اس کے تو منہ میں دانت ہی نہیں۔ایسا ہی اگر ایک اندھا کسی کی آنکھ پھوڑ دے تو ہم اس کی آنکھ نہیں پھوڑ سکتے کیونکہ اس کی تو آنکھیں ہی نہیں۔خلاصہ مطلب یہ کہ قرآن شریف نے ایسی صورتوں کو احکام میں داخل کرنے کے لئے اس قسم کے قواعد کلیہ بیان فرمائے ہیں پس اس کے احکام اور قوانین پر کیوں کر اعتراض ہو سکے۔اور اس نے صرف یہی نہیں کہا بلکہ ایسے قواعد کلیہ بیان فرما کر ہر ایک کو