تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 127
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۷ سورة الشورى اس صورت میں اس کا یہی قانون قدیم ہے کہ وہ ضرور عاجز بندوں کی خبر لیتا ہے اور اُن کو ہلاکت سے بچاتا ہے اور جیسے وہ جسمانی سختی کے وقت رحم فرماتا ہے اسی طرح جب روحانی سختی یعنی ضلالت اور گمراہی اپنی حد کو پہنچ جاتی ہے اور لوگ راہِ راست پر قائم نہیں رہتے تو اس حالت میں بھی وہ ضرور اپنی طرف سے کسی کو مشرف بوحی کر کے اور اپنے نور خاص کی روشنی عطا فرما کر ضلالت کی مہلک تاریکی کو اس کے ذریعہ سے اٹھاتا ہے اور چونکہ جسمانی رحمتیں عام لوگوں کی نگاہ میں ایک واضح امر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت مدوحہ میں اول ضرورت فرقان مجید کی نازل ہونے کی بیان کر کے پھر بطور توضیح جسمانی قانون کا حوالہ دیا تا دانشمند آدمی جسمانی قانون کو دیکھ کر کہ ایک واضحہ اور بدیہی امر ہے خدائے تعالیٰ کے روحانی قانون کو بآسانی سمجھ سکے اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ جو لوگ بعض کتابوں کا منزل من اللہ ہونا مانتے ہیں اُن کو تو خود اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ کتابیں ایسے وقتوں میں نازل ہوئی ہیں کہ جب ان کے نزول کی ضرورت تھی۔پس اسی اقرار کے ضمن میں ان کو یہ دوسرا اقرار کرنا بھی لازم آیا کہ ضرورت کے وقتوں میں کتابوں کا نازل کرنا خدائے تعالیٰ کی عادت ہے لیکن ایسے لوگ کہ جو ضرورت کتب البہیہ سے منکر ہیں جیسے برہمو سماج والے سوان کے ملزم کرنے کے لئے اگر چہ بہت کچھ ہم لکھ چکے ہیں لیکن اگر ان میں ایک ذرا انصاف ہو تو ان کو وہی ایک دلیل کافی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے آیات گذشتہ بالا میں آپ بیان فرمائی ہے کیونکہ جس حالت میں وہ لوگ مانتے ہیں کہ حیاتِ ظاہری کا تمام انتظام خدائے تعالی کی طرف سے ہے اور وہی اپنی آسمانی روشنی اور بارانی پانی کے ذریعہ سے دنیا کو تاریکی اور ہلاکت سے بچاتا ہے تو پھر وہ اس اقرار سے کہاں بھاگ سکتے ہیں کہ حیات باطنی کے وسائل بھی آسمان ہی سے نازل ہوتے ہیں اور خود یہ نہایت کو نہ اندیشی اور قلت معرفت ہے کہ نا پائیدار حیات کا اہتمام تصرف خاص الہی سے تسلیم کر لیا جاوے لیکن جو حقیقی حیات اور لازوال زندگی ہے یعنی معرفت الہی اور نور باطنی یہ صرف اپنی ہی عقلوں کا نتیجہ قرار دیا جائے۔کیا وہ خدا جس نے جسمانی سلسلہ کے بر پارکھنے کے لئے اپنی الوہیت کی قومی طاقتوں کو ظاہر کیا ہے اور بغیر وسیلہ انسانی ہاتھوں کے زبر دست قدرتیں دکھائی ہیں وہ روحانی طور پر اپنی طاقت ظاہر کرنے کے وقت ضعیف اور کمزور خیال کیا جا سکتا ہے کیا ایسا خیال کرنے سے وہ کامل رہ سکتا ہے یا اس کی روحانی طاقتوں کا ثبوت میسر آ سکتا ہے۔برا این احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۶۴ تا ۶۶۹ ) خدا وہ خدا ہے جو بارش کو اس وقت اُتارتا ہے جبکہ لوگ مینہ سے نومید ہو جاتے ہیں تب نومیدی کے بعد