تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 126
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۶ سورة الشورى اَم يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا فَإِن يَشَا اللهُ يَخْتِمُ عَلَى قَلْبِكَ وَيَمُحُ الله ۲۵ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقِّ بِكَلِمَتِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ کیا یہ منکر لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں اور خدا پر جھوٹ باندھا ہے اگر خدا چاہے تو اُس کا اُترنا بند کر دے پر وہ بند نہیں کرتا کیونکہ اس کی عادت اسی پر جاری ہے کہ وہ احقاق حق اور ابطال باطل اپنے کلمات سے کرتا ہے اور یہ منصب اُسی کو پہنچتا ہے کیونکہ امراض روحانی پر اُسی کو اطلاع ہے اور ازالہ مرض اور استرداد صحت پر وہی قادر ہے۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۶۳، ۶۶۴) وَ هُوَ الَّذِى يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَّاتِ وَ يَعْلَمُ 199 تَفْعَلُونَ ) تمہارا خداوہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں ان کو معاف کر دیتا ہے کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَ ا یعنی جو شخص ایک ذرہ بھی شرارت کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔پس یادر ہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں کیونکہ اس شر سے وہ شتر مراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور تو بہ نہ کرے۔اسی غرض سے اس جگہ شر کا لفظ استعمال کیا ہے نہ ذنب کا تا معلوم ہو کہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا۔ورنہ سارا قرآن شریف اس بارہ میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے۔(چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۴) الحميد وَهُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَ يَنْشُرُ رَحْمَتَهُ ۖ وَهُوَ الْوَلِيُّ اللہ وہ ذات کامل الرحمت ہے کہ اُس کا قدیم سے یہی قانون قدرت ہے کہ اس تنگ حالت میں وہ ضرور مینہ برساتا ہے کہ جب لوگ نا امید ہو چکتے ہیں پھر زمین پر اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی کارساز حقیقی اور ظاہر و باطنا قابل تعریف ہے یعنی جب سختی اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی تو