تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 124

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لَهَا كَالْبَنِينَ أوِ الْبَنَاتِ۔(منن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۸۳، ۱۸۴) ۱۲۴ سورة الشورى کے بیٹے بیٹیوں کی طرح ہیں۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) وَاِنَّ اللهَ أولى فِي مَقَامَاتِ مِنَ اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے کئی مقامات الْفُرْقَانِ إلى أنَّ الْعَرَبِيَّةَ هِيَ أُمُّ الْأَلْسِنَةِ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زبانوں کی ماں وَوَحْرُ الرَّحْمَانِ وَلِأَجْلِ ذَلِكَ سَمَّى مَكَّةَ اور خدا کی وحی صرف عربی ہے۔اور اسی واسطے اس نے مَكَّةَ وَأَمَّ الْقُرَى فَإِنَّ النَّاسَ أَرْضَعُوا مکہ کا نام مکہ اور ام القری رکھا کیونکہ لوگوں نے اس سے مِنْهَا لِبَانَ اللَّسَانِ وَالْهُدَى فَهَذِهِ اِشَارَةٌ ہدایت اور زبان کا دودھ پیا۔پس یہ اس بات کی طرف إلى أَنَّهَا هِيَ مَنْبَعُ النُّطْقِ وَالنُّهى فَفَكِّر في اشارہ ہے کہ صرف عربی زبان ہی نطق اور عقل کا منبع ہے قَوْلِ رَبِّ الْوَرى قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِتُنذِدَ أَمَّد پس خدا تعالیٰ کے اس قول میں فکر کر کہ یہ قرآن عربی ہے الْقُرى وفى ذلِكَ آيَةٌ لِلَّذِى يَقى الله تا تو مکہ کو کہ جو تمام آبادیوں کی ماں ہے ڈراوے اور اس ويخشى۔وَيَطلُبُ الْحَقِّ وَلا يَأْتي وَلَا يَتَّبِعُ میں اس شخص کے لئے نشان ہے جو خدا سے ڈرے اور حق سُبُلَ الْمُعْرِضِينَ کو ڈھونڈے اور انکار نہ کرے اور کنارہ کش لوگوں کا پیرو (متن الرحمن ، روحانی خزائن جلد 9 صفحه (۲۰۷) | نہ ہو۔(ترجمہ اصل کتاب سے ) ۹ فَاطِرُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَ مِنَ الْأَنْعَامِ اَزْوَاجًا ۚ يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ کوئی چیز اس کے مانند نہیں۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۲۱ حاشیہ نمبر ۴) اس کی مانند کوئی بھی چیز نہیں۔( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۹۸) خدا شناسی کے بارے میں وسط کی شناخت یہ ہے کہ خدا کی صفات بیان کرنے میں نہ تو نفی صفات کے پہلو کی طرف جھک جائے اور نہ خدا کو جسمانی چیزوں کا مشابہ قرار دے۔یہی طریق قرآن شریف نے صفات باری تعالیٰ میں اختیار کیا ہے چنانچہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ خداد یکھتا ، سنتا، جانتا، بولتا، کلام کرتا ہے اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کے لئے یہ بھی فرماتا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ۔۔۔۔یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۷،۳۷۶)