تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page xv
صفحه ۱۵۰ ۱۵۲ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۱ ۱۶۳ ۱۶۳ ۱۶۳ ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۷۶ ۱۷۹ ۱۸۱ ۱۸۴ ۱۸۷ xiv نمبر شمار مضمون الد محض الہام جب تک اس کے ساتھ فعلی شہادت نہ ہو ہر گز کسی کام کا نہیں ۱۰۵ الہام کی ضرورت میری جماعت میں اس قسم کے ملہم اس قدر ہیں کہ بعض کے الہامات کی ایک کتاب بنتی ہے یہ خیال مت کرو کہ خدا کی وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ہر ایک مہم من اللہ کو تبلیغ و اظہار کے لحاظ سے تین قسم کے الہام ہوتے ہیں وجی دو قسم کی ہے وحی الابتلاء اور وحی الاصطفاء الہام کشف یا رویا تین قسم کے ہوتے ہیں اول خدا کی طرف سے دوسرے حدیث النفس تیسرے شیطانی الہام خدا کی طرف سے نازل ہونے والے الہام کی تین علامتیں سچا الہام جو خالص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اس کی دس علامتیں رحمانی الہام کی گیارہ نشانیاں سوال کا جواب کہ وحی کس طرح نازل ہوتی ہے یہ الزام کہ صحابہ کرام سے الہامات ثابت نہیں ہوتے بالکل بے جا اور غلط اگر کل قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وحی تھا تو پھر اجتہادی غلطی کیوں ہوئی کا جواب ہر ایک نبی کو جب تک وحی نہ ہو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف قرآن کے جو کچھ ہے وہ ظن ہے ۱۰۶ ۱۰۷ ۷۰۱ ۱۰۹ ۱۱۰ ۱۱۱ ۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ١١۶ ۱۱۷ ۱۱۸