تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 115
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۵ سورة حم السجدة جو لوگ اللہ (جلشانہ ) کے دوست ہیں یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ سے سچی محبت رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے تو ان کی یہ نشانیاں ہیں کہ نہ ان پر خوف مستولی ہوتا ہے کہ کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا فلاں بلا سے کیوں کر نجات ہوگی کیونکہ وہ تسلی دیئے جاتے ہیں اور نہ گزشتہ کے متعلق کوئی حزن و اندوہ ہوتا ہے کیونکہ وہ صبر دیئے جاتے ہیں۔دوسری یہ نشانی ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں یعنی ایمان میں کامل ہوتے ہیں اور تقوی اختیار کرتے ہیں یعنی خلاف ایمان و خلاف فرمانبرداری جو باتیں ہیں اُن سے بہت دُور رہتے ہیں۔تیسری اُن کی یہ نشانی ہے کہ انہیں ( بذریعہ مکالمہ الہیہ ورویائے صالحہ بشارتیں ملتی رہتی ہیں ) اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی خدا تعالیٰ کا ان کی نسبت یہ عہد ہے جو ٹل نہیں سکتا اور یہی پیارا اور جہ ہے جو انہیں ملا ہوا ہے۔یعنی مکالمہ البہیہ اور رویائے صالحہ سے خدا تعالیٰ کے مخصوص بندوں کو جو اس کے ولی ہیں ضرور حصہ ملتا ہے اور ان کی ولایت کا بھاری نشان یہی ہے کہ مکالمات و مخاطبات الہیہ سے مشرف ہوں یہی قانونِ قدرت اللہ جل شانہ کا ہے ) کہ جو لوگ ارباب متفرقہ سے منہ پھیر کر اللہ جلشانہ کو اپنارب سمجھ لیں اور کہیں کہ ہمارا تو ایک اللہ ہی رب ہے یعنی اور کسی کی ربوبیت پر ہماری نظر نہیں ) اور پھر آزمائشوں کے وقت میں مستقیم رہیں ( کیسے ہی زلزلے آویں، آندھیاں چلیں ، تاریکیاں پھیلیں ان میں ذرا تزلزل اور تغیر اور اضطراب پیدا نہ ہو پوری پوری استقامت پر رہیں ) تو ان پر فرشتے اُترتے ہیں ( یعنی الہام یا رویائے صالحہ کے ذریعہ سے انہیں بشارتیں ملتی ہیں ) کہ دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے دوست اور متولی اور متکفل ہیں اور آخرت میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے وہ سب تمہیں ملے گا۔یعنی اگر دنیا میں کچھ مکروہات بھی پیش آویں تو کوئی اندیشہ کی بات نہیں کیونکہ آخرت میں تمام غم دور ہو جائیں گے اور سب مراد میں حاصل ہوں گی۔اگر کوئی کہے کہ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ آخرت میں جو کچھ انسان کا نفس چاہے اس کو ملے میں کہتا ہوں کہ یہ ہونا نہایت ضروری ہے اور اسی بات کا نام نجات ہے ورنہ اگر انسان نجات پا کر بعض چیزوں کو چاہتا رہا اور ان کے غم میں کباب ہوتا اور جلتا رہا مگر وہ چیزیں اس کو نہ ملیں تو پھر نجات کا ہے کی ہوئی۔ایک قسم کا عذاب ساتھ ہی رہا۔لہذا ضرور ہے کہ جنت یا بهشت یا مکتی خانه یا مرگ جو نام اس مقام کا رکھا جائے جو انتہا سعادت پانے کا گھر ہے وہ ایسا گھر چاہیے کہ انسان کو من کل الوجوہ اس میں مصفا خوشی حاصل ہو اور کوئی ظاہری یا باطنی رنج کی بات درمیان نہ ہو اور کسی نا کامی کی سوزش دل پر غالب نہ ہو۔ہاں یہ بات سچ ہے کہ بہشت میں نالائق اور نا مناسب باتیں نہیں ہوں گی مگر مقدس دلوں میں اُن کی خواہش بھی پیدا نہ ہوگی بلکہ ان مقدس اور