تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 113

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۱۳ سورة حم السجدة یعنی جن لوگوں نے اپنے قول اور فعل سے بتا دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر انہوں نے استقامت دکھائی ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ فرشتوں کا نزول ہوا اور مخاطبہ نہ ہو۔نہیں بلکہ وہ انہیں بشارتیں دیتے ہیں۔یہی تو اسلام کی خوبی اور کمال ہے جو دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں ہے۔استقامت بہت مشکل چیز ہے یعنی خواہ ان پر زلزلے آئیں، فتنے آئیں۔وہ ہر قسم کی مصیبت اور دکھ میں ڈالے جاویں مگر ان کی استقامت میں فرق نہیں آتا۔ان کا اخلاص اور وفاداری پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔ایسے لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ ان پر خدا کے فرشتے اُتریں اور انہیں بشارت دیں کہ تم کوئی غم نہ کرو۔الحاکم جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۳۱ / جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۲) جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر انہوں نے سچی استقامت دکھائی یعنی ہر قسم کے مصائب اور مشکلات عسر یسر میں انہوں نے قدم آگے ہی بڑھایا اور ہر قسم کے امتحانوں میں وہ پاس ہو گئے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے جو اُن کو خوشخبریاں دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ولی ہیں۔اس حیات دُنیا میں تمہیں کوئی غم اور حزن نہ ہوگا۔الحکام جلد ۱۰ نمبر ۴۲ مورخه ۱۰ ؍دسمبر ۱۹۰۶ صفحه ۳) جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر انہوں نے استقامت دکھائی اور کوئی مشکل اور مصیبت انہیں اس اقرار سے پھیر نہیں سکی ان پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے۔یہ بڑا بھاری طریق ہے خدا کو پہنچانے کا۔اس سے وہ یقین پیدا ہوتا ہے جو انسان کو نجات کا وارث بنادیتا ہے کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ کے وجود پر کامل یقین پیدا ہو جاوے تو انسان کی زندگی میں ایک معجز نما تبدیلی ہوتی ہے وہ گناہ آلود زندگی سے نکل آتا ہے اور پاکیزگی اور طہارت کا جامہ پہن لیتا ہے اور یہی نجات ہے جو اس کو گناہ سے بچالیتی ہے۔اس کے ثمرات اور برکات خدا تعالیٰ پر کامل یقین اور توکل پیدا ہونے لگتے ہیں اور معجزات اور نشانات مشاہدہ کرائے جاتے ہیں۔احکام جلد نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۶) اس سے بھی مراد متقی ہیں ثُمَّ اسْتَقَامُوا یعنی ان پر زلزلہ آئے۔ابتلاء آئے۔آندھیاں چلیں مگر ایک عہد جو اس سے کر چکے اس سے نہ پھرے۔پھر آگے خدا فرماتا ہے کہ جب انہوں نے ایسا کیا اور صدق اور وفا دکھلایا تو اس کا اجر یہ ملا تتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ یعنی ان پر فرشتے اترے اور کہا کہ خوف اور حزن مت کرو تمہارا خدا متوتی ہے۔وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ اور بشارت دی کہ تم خوش ہو اس جنت سے۔اور اس جنت سے یہاں مراد دنیا کی جنت ہے جیسے ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ پھر آگے