تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 97

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۷ سورة المؤمن ہے کہ وہ نبی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہزار ہا درجہ کمتر ہے اس کے لئے جب یہ لفظ بولا جاوے تو اس کے من گھڑت معنے کر کے زندہ آسمان پر لے جاویں۔لیکن جب سید الاولین والآخرین کے لیے یہ لفظ آوے تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہ کریں۔حالانکہ آپ کی زندگی ایسی ثابت ہے کہ کسی اور نبی کی ثابت نہیں اور اس لئے ہم زور اور دعوئی سے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ اگر کوئی نبی زندہ ہے تو وہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخه ۱۷/فروری ۱۹۰۶ء صفحه ۳) خدا کی شہادت سب سے پہلے زیادہ معتبر ہے خدا کا پاک کلام قرآن شریف ہمارے پاس موجود ہے۔مسائل مختلفہ میں فیصلہ کرنے اور حق پانے کے واسطے مسلمانوں کو اول قرآن شریف ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئیے۔حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات ابدی کی کوئی دلیل اگر ان کے پاس ہے تو ان کو چاہئیے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت پیش کریں۔مگر قرآن شریف میں جب ہم اس غرض کے لئے غور کرتے ہیں تو ہمیں تو ان کے حق میں خدا کا یہی کلام ملتا ہے کہ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ (ال عمران : ۵۲ ) - فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ( المائدة : ۱۱۸) اب جائے غور ہے کہ آیا یہ لفظ قرآن شریف میں کسی اور نبی کے حق میں بھی آیا ہے یا کہ نہیں ؟ سو ہم صاف بتاتے ہیں کہ اور انبیاء اور ہمارے سید و مولی محمد مجتبی احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی یہی لفظ تولی کا استعمال ہوا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِما نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اور پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے حق میں بھی یہی لفظ نظر آتا ہے تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ (یوسف : ۱۰۲) اب ہم پوچھتے ہیں کہ ہمیں کوئی اس خصوصیت کی وجہ تو بتادے کہ کیوں یہ لفظ اور انبیاء پر تو موت کے معنوں میں وارد ہوتا ہے اور کیوں حضرت عیسی کے حق میں آوے تو اس لفظ کی یہ خاصیت بدل جاتی ہے اور یہ لفظ موت کے معنے نہیں دیتا۔ان کو چاہئیے کہ تعصب کو الگ کر کے ایک گھڑی بھر کے لئے حق جو ہو کر اس میں غور کریں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۶ مورخه ۶ اگست ۱۹۰۸ صفحه ۴) توفی کا لفظ بجز وفات کے جسم عصری سے آسمان پر چڑھ جانے کے ہرگز قرآن شریف سے کوئی ثابت نہ کر سکے گا۔دیکھو یہی لفظ تولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں قرآن شریف نے بولا ہے قائما نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُم أوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی لفظ توفی ہی آیا ہے تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ ( يوسف : ۱۰۲) اب جائے غور ہے کہ آوروں کے واسطے