تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 96

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۶ سورة المؤمن نہیں آیا ؟ اور وہی لفظ مسیح کے لیے مُتَوَفِيكَ (ال عمران : ۵۶) اور فَلَمَّا تَوَقيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸) میں آیا ہے۔پھر یہ کیا ہو گیا کہ ایک جگہ کچھ اور معنی اور ایک جگہ کچھ اور۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کمزور نبی سمجھا ہے !!! جو انہیں زمین میں دفن کرتے ہیں اور مسیح کو آسمان پر چڑھاتے ہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوتی تو آپ کے جلال اور شوکت کے لیے غیرت ہے تو کیوں نہیں کہہ دیتے کہ وہ بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔تب میں بھی سمجھ لیتا کہ یہ مسیح کی خصوصیت نہیں ٹھہراتے مگر موجودہ حالت میں میرا دل گوارا نہیں کر سکتا کہ میں قرآن شریف کے ایسے معنے کروں جو خود قرآن شریف اور لُغت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کے خلاف ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک شان کا باعث ہوں۔میں سچ کہتا ہوں کہ جس شخص نے یہ لکھا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہیں وہ کافر ہے وہ سچ کہتا ہے۔اس خصوصیت کے پیدا کرنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ تیس لاکھ مرتد ہو گیا۔خدا کے واسطے اس قدر ظلم نہ کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور رتبہ کو گھٹایا جاوے۔جو اس عقیدہ سے برابر گھٹتی ہے کہ وہ تو زمین میں دفن کئے گئے اور مسیح آسمان پر اٹھایا گیا۔مسیح ہرگز زندہ نہیں رہا۔وہ مر گیا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا که يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ (ال عمران : ۵۶ ) اور خود مسیح نے اقرار کر لیا فلما تَوَفَّيْتَنِي (المائدة :۱۱۸) الحکم جلد ۸ نمبر ۳۳ مورخه ۳۰رستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳) توفی کے معنے موت بھی قرآن مجید ہی سے ثابت ہے کیونکہ یہی لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی آیا ہے جیسا کہ فرمایا فَاهَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فلنا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸) کہا ہے جس کے معنے موت ہی ہیں۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۴) توفی کا لفظ کوئی نرالا اور نیا لفظ نہ تھا اس کے معنے تمام لغت عرب میں خواہ وہ کسی نے لکھی ہوں موت کے کئے ہیں۔پھر انہوں نے مع جسم آسمان پر اُٹھانے کے معنے آپ ہی کیوں بنا لئے۔ہم کو افسوس نہ ہوتا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی اس لفظ کے یہی معنے کر لیتے کیونکہ یہی لفظ آپ کے لیے بھی تو قرآن شریف میں آیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے فَاهَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اب بتاؤ کہ اگر اس لفظ کے معنے مع جسم آسمان پر اُٹھانا ہی ہیں تو کیا ہمارا حق نہیں کہ آپ کے لئے بھی یہی معنے کریں۔کیا وجہ