تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 88

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۸ سورة المؤمن ذریعہ سے جواظہار تاکید کیا ہے۔اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ قضائے مبرم کو ظاہر کریں گے تو اس کا علاج إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (المطرة : ۱۵۷) ہی ہے۔اور دوسرا وقت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی امواج کے جوش کا ہے وہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ میں ظاہر کیا ہے۔پس مومن کو ان دونو مقامات کا پورا علم ہونا چاہیے۔صوفی کہتے ہیں کہ فقر کامل نہیں ہوتا، جب تک محل اور دونو موقع کی شناخت حاصل نہ ہو بلکہ کہتے ہیں کہ صوفی دعا نہیں کرتا کہ وقت کو شناخت نہ کرے۔سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا کے ساتھ شقی سعید کیا جاتا ہے، بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شدید الاختفا امور مشبه بالمبرم بھی دور کیے جاتے ہیں۔الغرض دعا کی اس تقسیم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور کبھی وہ مان لیتا ہے۔یہ معاملہ گویا دوستانہ معاملہ ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جیسی عظیم الشان قبولیت دعاؤں کی ہے۔اس کے مقابل رضا اور تسلیم کے بھی آپ اعلیٰ درجہ کے مقام پر ہیں۔احکام جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۲ صفحه ۳، ۴) میرے نزدیک خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت ایسی چیز ہے جو انسان کی گناہ کی زندگی پر موت وارد کرتی ہے۔جب سچا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے تو پھر دعا کے لیے تحریک ہوتی ہے اور دعا وہ چیز ہے جو انسان کی کمزوریوں کا جبر نقصان کرتی ہے۔اس لیے دعا کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لکھ لكم بعض وقت انسان کو ایک دھوکا لگتا ہے کہ وہ عرصہ دراز تک ایک مطلب کے لیے دعا کرتا ہے اور وہ مطلب پورانہیں ہو تا تب وہ گھبرا جاتا ہے حالانکہ گھبرانا نہ چاہیے۔بلکہ طلبگار باید صبور وحمول۔دعا تو قبول ہو جاتی ہے لیکن انسان کو بعض دفعہ پتہ نہیں لگتا کیونکہ وہ اپنی دعا کے انجام اور نتائج سے آگاہ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کے لیے وہ کرتا ہے جو مفید ہوتا ہے۔اس لیے نادان انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی حالانکہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے علم میں یہی مفید تھا کہ وہ دعا اس طرح پر قبول نہ ہو بلکہ کسی اور رنگ میں ہو۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے آگ کا سرخ انگارہ دیکھ کر مانگے تو کیا دانشمند ماں اُسے دے دے گی؟ کبھی نہیں۔اسی طرح پر دعا کے متعلق کبھی ہوتا ہے۔غرض دعائیں کرنے سے کبھی جھکنا نہیں چاہیے۔دُعاہی ایسی چیز ہے جو خدا تعالی کی طرف سے ایک قوت اور نور عطا کرتی ہے۔جس سے انسان بدی پر غالب آجاتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۲)