تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 75

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۵ سورة المؤمن صنعتوں سے خدا تعالیٰ کے کاموں پر ہاتھ ڈالے گا اور اس طرح پر خُدائی کا دعوی کرے گا اور اس بات کا سخت حریص ہوگا کہ خدائی باتیں جیسے بارش برسانا اور پھل لگانا اور انسان وغیرہ حیوانات کی نسل جاری رکھنا اور سفر اور حضر اور صحت کے سامان فوق العادت طور پر انسان کے لئے مہیا کرنا ان تمام باتوں میں قادر مطلق کی طرح کارروائیاں کرے اور سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہو جائے اور کوئی بات اس کے آگے انہونی نہ رہے اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے اور خلاصہ مطلب آیت یہ ہے کہ زمین آسمان میں جس قدر اسرار رکھے گئے ہیں جن کو دقبال بذریعہ علم طبعی اپنی قدرت میں کرنا چاہتا ہے وہ اسرار اُس کے انداز کو جودت طبع اور مبلغ علم سے بڑھ کر ہیں۔اور جیسا کہ آیت ممدوحہ میں الناس کے لفظ سے دجال مراد ہے۔ایسا ہی آیت اُخْرِجَتْ لِلنَّاس (ال عمران : ۱) میں بھی الناس کے لفظ سے دجال ہی مراد ہے۔کیونکہ تقابل کے قرینہ سے اس آیت کے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ كُنتُمْ خَيْرَ النَّاسِ أُخْرِجَتْ لِشَرِ الناس۔اور شر الناس سے بلا شبہ گروہ دجال مراد ہے کیونکہ حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ آدم سے قیامت تک شر انگیزی میں دجال کی مانند نہ کوئی ہوا اور نہ ہوگا اور یہ ایک ایسی محکم اور قطعی دلیل ہے کہ جس کے دونوں حصے یقینی اور قطعی اور عقائد مسلمہ میں سے ہیں۔یعنی جیسا کہ کسی مسلمان کو اس بات سے انکار نہیں کہ یہ امت خیر الامم ہے اسی طرح اس بات سے بھی انکار نہیں کہ گروہ دجال شر الناس ہے۔وو b (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۲۱،۱۲۰) وَ قَالَ رَبِّكُمُ ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيِّدُ خُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ ) استجابت دعا کا مسئلہ در حقیقت دعا کے مسئلہ کی ایک فرع ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص نے اصل کو سمجھا ہوا نہیں ہوتا اس کو فرع کے سمجھنے میں پیچیدگیاں واقع ہوتی ہیں اور دھو کے لگتے ہیں۔۔۔اور دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب میں ایک تعلق مجاز بہ ہے یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت ایک بہ کی بندہ کو اپنی طرف سینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خدا تعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے سوجس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت