تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 51
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱ سورة المؤمنون دن کی تخصیص کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔اما الجواب پس واضح ہو کہ یہ چھ دن کا ذکر در حقیقت مراتب تکوینی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہر یک چیز جو بطور خلق صادر ہوئی ہے اور جسم اور جسمانی ہے خواہ وہ مجموعہ عالم ہے اور خواہ ایک فرد از افراد عالم اور خواہ وہ عالم کبیر ہے جو زمین و آسمان و مافیہا سے مراد ہے اور خواہ وہ عالم صغیر جو انسان سے مراد ہے وہ بحکمت و قدرت باری تعالیٰ پیدائش کے چھ مرتبے طے کر کے اپنے کمال خلقت کو پہنچتی ہے اور یہ عام قانون قدرت ہے کچھ ابتدائی زمانہ سے خاص نہیں چنانچہ اللہ جل شانہ ہر ایک انسان کی پیدائش کی نسبت بھی انہیں مراتب ستہ کا ذکر فرماتا ہے جیسا کہ قران کریم کے اٹھارویں سیپارے سورۃ المؤمنون میں یہ آیت ہے وَ لَقَد خَلَقْنَا الإِنْسَانَ مِن سُللَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِين ، ثم خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا فَكَسَوْنَا الْعِظمَ لَحْمًا ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ ، یعنی پہلے تو ہم نے انسان کو اس مٹی سے پیدا کیا جوز مین کے تمام انواع اور اقسام کا لب لباب تھا اور اس کی تمام قو تیں اپنے اندر رکھتا تھا تاوہ باعتبار جسم بھی عالم صغیر ٹھہرے اور زمین کی تمام چیزوں کی اس میں قوت اور خاصیت ہو جیسا کہ وہ بر طبق آیت فَإِذَا سَوَيْتُه وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي ( الحجر :٣٠) باعتبار روح عالم صغیر ہے اور بلحاظ شیون وصفات کا ملہ وظلیت تام روح الہی کا مظہر نام ہے۔پھر بعد اس کے انسان کو ہم نے دوسرے طور پر پیدا کرنے کے لئے یہ طریق جاری کیا جو انسان کے اندر نطفہ پیدا کیا اور اس نطفہ کو ہم نے ایک مضبوط تھیلی میں جو ساتھ ہی رحم میں بنتے جاتے ہی جگہ دی۔( قرار مکین کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا کہ تاریم اور تھیلی دونوں پر اطلاق پاسکے ) اور پھر ہم نے نطفہ سے علقہ بنایا اور علاقہ سے مضغہ اور مضغہ کے بعض حصوں میں سے ہڈیاں اور ہڈیوں پر پوست پیدا کیا پھر اس کو ایک اور پیدائش دی یعنی روح اس میں ڈال دی۔پس کیا ہی مبارک ہے وہ خدا جو اپنی صنعت کاری میں تمام صناعوں سے بلحاظ حسن صنعت و کمال عجائبات خلقت بڑا ہوا ہے۔اب دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ بھی اپنا قانون قدرت یہی بیان فرمایا کہ انسان چھ طور کے خلقت کے مدارج طے کر کے اپنے کمال انسانیت کو پہنچتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ عالم صغیر اور عالم کبیر میں نہایت شدید تشابہ ہے اور قرآن سے انسان کا عالم صغیر ہونا ثابت ہے اور آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تقویم (التین : ۵) اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ تقویم عالم کی متفرق خوبیوں اور حسنوں کا ایک ایک حصہ۔