تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 51

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن کی تخصیص کچھ سمجھ میں نہیں آتی ۔ ۵۱ سورة المؤمنون اما الجواب پس واضح ہو کہ یہ چھ دن کا ذکر در حقیقت مراتب تکوینی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہر یک چیز جو بطور خلق صادر ہوتی ہے اور جسم اور جسمانی ہے خواہ وہ مجموعہ عالم ہے اور خواہ ایک فرد از افراد عالم اور خواہ وہ عالم کبیر ہے جو زمین و آسمان و مافیہا سے مراد ہے اور خواہ وہ عالم صغیر جو انسان سے مراد ہے وہ وه بحکمت و قدرت باری تعالی پیدائش کے چھ مرتبے طے کر کے اپنے کمال خلقت کو پہنچتی ہے اور یہ عام قانون قدرت ہے کچھ ابتدائی زمانہ سے خاص نہیں چنانچہ اللہ جل شانہ ہر ایک انسان کی پیدائش کی نسبت بھی انہیں مراتب ستہ کا ذکر فرماتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کے اٹھارویں سیپارے سورۃ المؤمنون میں یہ آیت ہے وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ مِنْ سُلَلَةٍ مِّنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِيْنَ * ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا فَكَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبْرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِينَ ( یعنی پہلے تو ہم نے انسان کو اس مٹی سے پیدا کیا جو زمین کے تمام انواع اور اقسام کا لب لباب تھا اور اس کی تمام قوتیں ور اس کی تمام قوتیں اپنے اندر رکھتا تھا تا وہ باعتبار جسم بھی عالم صغیر ٹھہرے اور زمین کی تمام چیزوں کی اس میں قوت اور خاصیت ہو جیسا کہ وہ بر طبق آیت فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي ( الحجر : ٣٠) باعتبار روح عالم صغیر ہے اور بلحاظ شیون وصفات کا ملہ وظلتیت تام روح الہی کا مظہر تام ہے۔ پھر بعد اس کے انسان کو ہم نے دوسرے طور پر پیدا کرنے کے لئے یہ طریق جاری کیا جو انسان کے اندر نطفہ پیدا کیا اور اس نطفہ کو ہم نے ایک مضبوط تھیلی میں جو ساتھ ہی رحم میں بنتے جاتے ہی جگہ دی ۔ ( قرار مکین کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا کہ تا رحم اور تھیلی دونوں پر اطلاق پاسکے ) اور پھر ہم نے نطفہ سے علقہ بنایا اور علقہ سے مضغہ اور مضغہ کے بعض حصوں میں سے ہڈیاں اور ہڈیوں پر پوست پیدا کیا پھر اس کو ایک اور پیدائش دی یعنی روح اس میں ڈال دی۔ پس کیا ہی مبارک ہے وہ خدا جو اپنی صنعت کاری میں تمام صناعوں سے بلحاظ حسن صنعت و کمال عجائبات خلقت بڑا ہوا ہے۔ اب دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ بھی اپنا قانون قدرت یہی بیان فرمایا کہ انسان چھ طور کے خلقت کے مدارج طے کر کے اپنے کمال انسانیت کو پہنچتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ عالم صغیر اور عالم کبیر میں نہایت شدید تشابہ ہے اور قرآن سے انسان کا عالم صغیر ہونا ثابت ہے اور آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (التین: ۵) اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ تقویم عالم کی متفرق خوبیوں اور حسنوں کا ایک ایک حصہ