تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 41
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدا سورة المؤمنون رجوع کے ساتھ لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو شغلوں کی پلیدی لگی رہتی ہے جس سے وہ اُنس اور محبت رکھتا ہے۔ ہاں کبھی نماز میں خشوع کے حالات بھی اس سے ظہور میں آتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف لغو حرکات بھی اس کے لازم حال رہتی ہیں اور لغو تعلقات اور لغو مجلسیں اور لغو ہنسی ٹھٹھا اس کے گلے کا ہار رہتا ہے۔ گویا وہ دو رنگ رکھتا ہے کبھی کچھ کبھی کچھ ه واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند چون بخلوت می روند آن کار دیگر می کنند پھر جب عنایت الہیہ اس کو ضائع کرنا نہیں چاہتی تو پھر ایک اور جلوہ عظمت اور ہیبت اور جبروت الہی کا اُس کے دل پر نازل ہوتا ہے جو پہلے جلوہ سے زیادہ تیز ہوتا ہے اور قوت ایمانی اُس سے تیز ہو جاتی ہے اور ایک آگ کی طرح مومن کے دل پر پڑ کر تمام خیالات لغو اس کے ایک دم میں بھسم کر دیتی ہے۔ اور یہ جلوہ عظمت اور جبروت الہی کا اس قدر حضرت عزت کی محبت اُس کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ لغو کاموں اور لغو شغلوں کی محبت پر غالب آجاتا ہے اور ان کو دفع اور دُور کر کے اُن کی جگہ لے لیتا ہے۔ اور تمام بیہودہ شغلوں سے دل کو سرد کر دیتا ہے تب لغو کاموں سے دل کو ایک کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہے پھر لغو شغلوں اور لغو کاموں کے دُور ہونے کے بعد ایک تیسری خراب حالت مومن میں باقی رہ جاتی ہے جس سے وہ دوسری حالت کی نسبت بہت محبت رکھتا ہے یعنی طبعاً مال کی محبت اس کے دل میں ہوتی ہو ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی اور آرام کا مدار مال کو ہی سمجھتا ہے اور نیز اس کے حاصل ہونے کا ذریعہ صرف اپنی محنت اور مشقت خیال کرتا ہے۔ پس اس وجہ سے اس پر خدا تعالیٰ کی راہ میں مال کا چھوڑنا بہت بھاری اور تلخ ہوتا ہے۔ پھر جب عنایت الہیہ اس ورطۂ عظیمہ سے اُس کو نکالنا چاہتی ہے تو راز قیت الہیہ کا علم اُس کو عطا کیا جاتا ہے اور تو گل کا بیج اُس میں بویا جاتا ہے اور ساتھ اس کے ہیت الہیہ بھی کام کرتی ہے اور دونوں تجلیات جمالی اور جلالی اُس کے دل کو اپنے قابو میں لے آتی ہیں ۔ تب مال کی محبت بھی دل میں سے بھاگ جاتی ہے اور مال دینے والے کی محبت کا تخم دل میں بویا جاتا ہے اور ایمان قوی کیا جاتا ہے۔ اور یہ قوت ایمانی درجہ سوم کی قوت سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ کیونکہ اس جگہ مومن صرف لغو باتوں کو ہی ترک نہیں کرتا بلکہ اس مال کو ترک کرتا ہے جس پر اپنی خوش زندگی کا سارا مدار سمجھتا ہے۔ اور اگر اس کے ایمان کو قوت تو گل عطا نہ کی جاتی اور رازق حقیقی کی طرف آنکھ کا دروازہ نہ کھولا جاتا تو ہر گز ممکن نہ تھا کہ بخل کی بیماری دُور ہوسکتی ۔ پس یہ قوت ایمانی نہ صرف