تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 40

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰ سورة المؤمنون ہے جس کے بغیر وہ جی ہی نہیں سکتا۔یہ درجہ بغیر اس رُوح کے حاصل نہیں ہو سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مومن پر نازل ہوتی ہے کیونکہ جب کہ مومن خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان کو ترک کر دیتا ہے تو ایک دوسری جان پانے کا مستحق ہوتا ہے۔اس تمام تقریر سے ثابت ہے کہ یہ مراتب ستہ عقلِ سلیم کے نزدیک اُس مومن کی راہ میں پڑے ہیں جو اپنے وجو د روحانی کو کمال تک پہنچانا چاہتا ہے اور ہر ایک انسان تھوڑے سے غور کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ضرور مومن پر اس کے سلوک کے وقت چھ حالتیں آتی ہیں۔وجہ یہ کہ جب تک انسان خدا تعالیٰ سے کامل تعلق نہیں پکڑتا تب تک اُس کا نفس ناقص پانچ خراب حالتوں سے پیار کرتا ہے اور ہر ایک حالت کا پیار دُور کرنے کے لئے ایک ایسے سبب کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس پیار پر غالب آ جائے۔اور نیا پیار پہلے پیار کا علاقہ توڑ دے۔چنانچہ پہلی حالت جس سے وہ پیار کرتا ہے یہ ہے کہ وہ ایک غفلت میں پڑا ہوتا ہے اور اس کو بالکل خدا تعالیٰ سے بعد اور ڈوری ہوتی ہے اور نفس ایک کفر کے رنگ میں ہوتا ہے اور غفلت کے پردے تکبر اور لا پروائی اور سنگدلی کی طرف اس کو کھینچتے ہیں اور خشوع اور خضوع اور تواضع اور فروتنی اور انکسار کا نام ونشان اس میں نہیں ہوتا اور اسی اپنی حالت سے وہ محبت کرتا ہے اور اس کو اپنے لئے بہتر سمجھتا ہے اور پھر جب عنایت الہیہ اس کی اصلاح کی طرف توجہ کرتی ہے تو کسی واقعہ کے پیدا ہونے سے یا کسی آفت کے نازل ہونے سے خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت اور جبروت کا اس کے دل پر اثر پڑتا ہے اور اس اثر سے اُس پر ایک حالت خشوع پیدا ہو جاتی ہے جو اُس کے تکبر اور گردن کشی اور غفلت کی عادت کو کالعدم کر دیتی ہے اور اس سے علاقہ محبت توڑ دیتی ہے۔یہ ایک ایسی بات ہے جو ہر وقت دنیا میں مشاہدہ میں آتی رہتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ جب ہیبت الہی کا تازیانہ کسی خوفناک لباس میں نازل ہوتا ہے تو بڑے بڑے شریروں کی گردن جھکا دیتا ہے اور خواب غفلت سے جگا کر خشوع اور خضوع کی حالت بنا دیتا ہے یہ وہ پہلا مرتبہ رجوع الی اللہ کا ہے جو عظمت اور ہیبت الہی کے مشاہدہ کے بعد یا کسی اور طور سے ایک سعید الفطرت کو حاصل ہو جاتا ہے اور گو وہ پہلے اپنی غافلانہ اور بے قید زندگی سے محبت ہی رکھتا تھا۔مگر جب مخالف اثر اُس پہلے اثر سے قومی تر پیدا ہوتا ہے تو اس حالت کو بہر حال چھوڑنا پڑتا ہے۔پھر اس کے بعد دوسری حالت یہ ہے کہ ایسے مومن کو خدا تعالی کی طرف کچھ رجوع تو ہوجاتا ہے مگر اس