تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page vii
vi نمبر شمار مضمون صفحه ۱۰ دابۃ الارض یعنی وہ علماء واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے 11 11 اس جگہ لفظ دابۃ الارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کا مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندر نہیں رکھتے 11 = اله اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَةً مِّنَ الْأَرْضِ ۔۔۔۔ ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین = 11 ۱۴ ۱۵ ۱۵ ۱۶ ۱۶ ۱۷ ۱۹ میں سے سے نکالیں گے۔۔۔۔ جن کو علم کلام اور فلسفہ میں ید طولیٰ ہوگا دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغور سیر و تماشا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے لغو باتوں اور لغو کاموں کو چھوڑ دینا یہی وہ حالت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں تعلق باللہ کہتے ہیں جسمانی وجود کے تیسرے درجہ کے مقابل پر روحانی وجود کے تیسرے درجے کی تفصیل قرآن شریف ذو المعارف ہے اور کئی وجوہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد نہیں زکوۃ کا نام اسی لئے زکوٰۃ ہے کہ انسان اس کی بجا آوری سے یعنی اپنے مال کو جو اس کو بہت پیارا ہے الہ دینے سے بخل کی پلیدی سے پاک ہوجاتا ہے روحانی وجود کے چوتھے درجہ کی تفصیل لفظ عون عرب کے محاورہ کے موافق اس وقت بولا جاتا ہے جہاں کوئی شخص اپنی قوت اور طاقت کے مطابق کسی امر کی باریک راہ پر چلنا اختیار کرتا ہے ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹