تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 34
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴ سورة المؤمنون گندی فطرت کا انسان نہ ہو ورنہ دُعا قبول نہیں ہوگی اور جہاں تک مجھے خدا تعالیٰ نے دعاؤں کے بارے میں علم دیا ہے وہ یہ ہے کہ دُعا کے قبول ہونے کے لئے تین شرطیں ہیں ؟ اول۔دُعا کرنے والا کامل درجہ پر متقی ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کا مقبول وہی بندہ ہوتا ہے جس کا شعار تقویٰ ہو اور جس نے تقویٰ کی باریک راہوں کو مضبوط پکڑا ہو اور جو امین اور متقی اور صادق العہد ہونے کی وجہ سے ا منظور نظر الہی ہو اور محبت ذاتیہ البہیہ سے معمور اور پر ہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ اس کی عقد ہمت اور توجہ اس قدر ہو کہ گویا ایک شخص کے زندہ کرنے کے لئے ہلاک ہو جائے اور ایک شخص کو قبر سے باہر نکالنے کے لئے آپ گور میں داخل ہو۔اس میں راز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنے مقبول بندے اس سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں جیسا کہ ایک خوبصورت بچہ جو ایک ہی ہو اس کی ماں کو پیارا ہوتا ہے۔پس جب کہ خدائے کریم و رحیم دیکھتا ہے کہ ایک مقبول و محبوب اُس کا ایک شخص کی جان بچانے کے لئے روحانی مشقتوں اور تضرعات اور مجاہدات کی وجہ سے اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ قریب ہے کہ اُس کی جان نکل جائے تو اُس کو علاقہ محبت کی وجہ سے ناگوار گزرتا ہے کہ اسی حال میں اُس کو ہلاک کر دے۔تب اس کے لئے اس دوسرے شخص کا گناہ بخش دیتا ہے جس کے لئے وہ پکڑا گیا تھا پس اگر وہ کسی مہلک بیماری میں گرفتار ہے یا اور کسی بلا میں اسیر ولا چار ہے تو اپنی قدرت سے ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جس سے رہائی ہو جائے اور بسا اوقات اُس کا ارادہ ایک شخص کے قطعی طور پر ہلاک کرنے یا بر باد کرنے پر قرار یافتہ ہوتا ہے لیکن جب ایک مصیبت زدہ کی خوش قسمتی سے ایسا شخص پر درد تضرعات کے ساتھ درمیان میں آپڑتا ہے جس کو حضرت عزت میں وجاہت ہے تو وہ مثل مقدمہ جو سزا دینے کے لئے مکمل اور مرتب ہو چکی ہے چاک کرنی پڑتی ہے کیونکہ اب بات اغیار سے یار کی طرف منتقل ہو جاتی ہے اور یہ کیوں کر ہو سکے کہ خدا اپنے کچے دوستوں کو عذاب دے۔۳۔تیسری شرط استجابت دعا کے لئے ایک ایسی شرط ہے جو تمام شرطوں سے مشکل تر ہے کیونکہ اس کا پورا کرنا خدا کے مقبول بندوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس شخص کے ہاتھ میں ہے جو دعا کرانا چاہتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ نہایت صدق اور کامل اعتقاد اور کامل یقین اور کامل ارادت اور کامل غلامی کے ساتھ دُعا کا خواہاں ہو اور یہ دل میں فیصلہ کر لے کہ اگر دُعا قبول بھی نہ ہوتا ہم اس کے اعتقاد اور ارادت میں فرق نہیں آئے گا۔اور دعا کرانا آزمائش کے طور پر نہ ہو بلکہ بچے اعتقاد کے طور پر ہو اور نہایت نیازمندی سے اس کے دروازے پر