تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 32

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المؤمنون آن ترک عجم چون نہ مئی عشق طرب کرد غارت گریے کوفہ و بغداد و جلب کرد صد لالہ رُخ بود بصد حسن شگفته نازان همه را زیر قدم کرد عجب کرد اور شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے بھی اس بارہ میں ایک شعر کہا ہے جو حسن روحانی پر بہت منطبق ہوتا ہے اور وہ یہ ہے صورت گر دیبائے چیں روصورت زیباش بین یا صورتے برکش چنیں یا تو بہ کن صورت گری اب یہ بھی یادر ہے کہ بندہ تو حسن معاملہ دکھلا کر اپنے صدق سے بھری ہوئی محبت ظاہر کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس کے مقابلہ پر حد ہی کر دیتا ہے اس کی تیز رفتار کے مقابل پر برق کی طرح اس کی طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور زمین و آسمان سے اس کے لئے نشان ظاہر کرتا ہے اور اس کے دوستوں کا دوست اور اس کے دشمنوں کا دشمن بن جاتا ہے اور اگر پچاس کروڑ انسان بھی اُس کی مخالفت پر کھڑا ہو تو ان کو ایسا ذلیل اور بے دست و پا کر دیتا ہے جیسا کہ ایک مرا ہوا کیڑا۔اور محض ایک شخص کی خاطر کے لئے ایک دنیا کو ہلاک کر دیتا ہے اور اپنی زمین و آسمان کو اس کے خادم بنا دیتا ہے اور اس کے کلام میں برکت ڈال دیتا ہے اور اس کے تمام درودیوار پر نور کی بارش کرتا ہے اور اُس کی پوشاک میں اور اُس کی خوراک میں اور اس مٹی میں بھی جس پر اس کا قدم پڑتا ہے ایک برکت رکھ دیتا ہے اور اس کو نامراد ہلاک نہیں کرتا۔اور ہر ایک اعتراض جو اس پر ہو اُس کا آپ جواب دیتا ہے۔وہ اُس کی آنکھیں ہو جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے اور اُس کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے اور اُس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اُس کے پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے اور اُس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ دشمنوں پر حملہ کرتا ہے۔وہ اُس کے دشمنوں کے مقابل پر آپ نکلتا ہے اور ایک رات مجھے خدا نے اطلاع دی کہ اُس نے مجھے اپنے لئے اختیار کر لیا ہے۔تب یہ عجیب اتفاق ہوا کہ اُسی رات ایک بڑھیا کو خواب آئی جس کی عمر قریباً اسی برس کی تھی اور اُس نے صبح مجھ کو آ کر کہا کہ میں نے رات سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا ہے اور ساتھ ان کے ایک اور بزرگ تھے اور دونوں سبز پوش تھے اور رات کے پچھلے حصہ کا وقت تھا۔دوسرا بزرگ عمر میں اُن سے کچھ چھوٹا تھا۔پہلے انہوں نے ہماری جامع مسجد میں نماز پڑھی اور پھر مسجد کے باہر کے صحن میں نکل آئے اور میں اُن کے پاس کھڑی تھی اتنے میں مشرق کی طرف سے ایک چمکتا ہو استارہ نکلا تب اس ستارہ کو دیکھ کر سید عبدالقادر بہت خوش ہوئے اور ستارہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا السلام علیکم اور ایسا ہی ان کے رفیق نے السلام علیکم کہا۔اور وہ ستارہ میں تھا۔المؤمن يرى ويرى له منه