تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 31
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١ سورة المؤمنون گویا خدا اُن میں اُتر آتا ہے۔اور آدم کی طرح خدائی رُوح اُن میں پھونکی جاتی ہے مگر یہ نہیں کہ وہ خدا ہیں لیکن درمیان میں کچھ ایسا تعلق ہے جیسا کہ لوہے کو جب کہ سخت طور پر آگ سے افروختہ ہو جائے اور آگ کا رنگ اُس میں پیدا ہو جائے آگ سے تعلق ہوتا ہے۔اس صورت میں تمام چیزیں جو خدا تعالیٰ کے زیر حکم ہیں اُن کے زیر حکم ہو جاتی ہیں۔اور آسمان کے ستارے اور سورج اور چاند سے لے کر زمین کے سمندروں اور ہوا اور آگ تک اُن کی آواز کو سُنتے اور ان کو شناخت کرتے اور اُن کی خدمت میں لگے رہتے ہیں اور ہر ایک چیز طبعاً اُن سے پیار کرتی ہے اور عاشق صادق کی طرح اُن کی طرف کھینچی جاتی ہے۔بجز شریر انسانوں کے جو شیطان کا اوتار ہیں۔عشق مجازی تو ایک منحوس عشق ہے کہ ایک طرف پیدا ہوتا اور ایک طرف مرجاتا ہے۔اور نیز اس کی بنا اُس حسن پر ہے جو قابل زوال ہے۔اور نیز اُس حسن کے اثر کے نیچے آنے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔مگر یہ کیا حیرت انگیز نظارہ ہے کہ وہ حسن روحانی جوحسن معاملہ اور صدق وصفا اور محبت الہیہ کی تجلی کے بعد انسان میں پیدا ہوتا ہے اس میں ایک عالمگیر کشش پائی جاتی ہے وہ مستعد دلوں کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لیتا ہے کہ جیسے شہد چیونٹیوں کو۔اور نہ صرف انسان بلکہ عالم کا ذرہ ذرہ اس کی کشش سے متاثر ہوتا ہے۔صادق المحبت انسان جو سچی محبت خدا تعالیٰ سے رکھتا ہے وہ وہ یوسف ہے جس کے لئے ذرہ ذرہ اس عالم کا زلیخا صفت ہے۔اور ابھی حسن اُس کا اس عالم میں ظاہر نہیں کیونکہ یہ عالم اس کی برداشت نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ اپنی پاک کتاب میں جو فرقان مجید ہے فرماتا ہے کہ مومنوں کا نور اُن کے چہروں پر دوڑتا ہے۔اور مومن اس حسن سے شناخت کیا جاتا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں نور ہے۔اور مجھے ایک دفعہ عالم کشف میں پنجابی زبان میں اسی علامت کے بارہ میں یہ موزوں فقرہ سنایا گیا۔عشق الہی وے منہ پر ولیاں ایہہ نشانی مومن کا نور جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے وہ وہی روحانی حسن و جمال ہے جو مومن کو وجود روحانی کے مرتبہ ششم پر کامل طور پر عطا کیا جاتا ہے۔جسمانی حسن کا ایک شخص یا دو شخص خریدار ہوتے ہیں مگر یہ عجیب حسن ہے جس کے خریدار کروڑ ہار وھیں ہو جاتی ہیں۔اسی روحانی حسن کی بنا پر بعض نے سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی نعت میں یہ شعر کہے ہیں اور اُن کو ایک نہایت درجہ حسین اور خوبصورت قرار دیا ہے اور وہ اشعار یہ ہیں د لے فطرتنا بعض طبائع کو بعض طبائع سے مناسبت ہوتی ہے۔اس طرح میری روح اور سید عبدالقادر کی روح کو میر فطرت سے با ہم ایک مناسبت ہے جس پر کشوف صیحہ صریحہ سے مجھ کو اطلاع ملی ہے۔اس بات پر تئیس برس کے قریب زمانہ گزر گیا ہے کہ جب