تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 24
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴ سورة المؤمنون غرض محبت سے بھری ہوئی یاد الہی جس کا نام نماز ہے وہ در حقیقت ان کی غذا ہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ جی ہی نہیں سکتے اور جس کی محافظت اور نگہبانی بعینہ اس مسافر کی طرح وہ کرتے رہتے ہیں جو ایک دشت بے آب و دانہ میں اپنی چند روٹیوں کی محافظت کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں اور اپنے کسی قدر پانی کو جان کے ساتھ رکھتا ہے جو اس کی مشک میں ہے۔واہب مطلق نے انسان کی روحانی ترقیات کے لئے یہ بھی ایک مرتبہ رکھا ہوا ہے جو محبت ذاتی اور عشق کے غلبہ اور استیلا کا آخری مرتبہ ہے اور درحقیقت اس مرتبہ پر انسان کے لئے محبت سے بھری ہوئی یا دالہی جس کا شرعی اصطلاح میں نماز نام ہے غذا کے قائم مقام ہو جاتی ہے بلکہ وہ بار بار جسمانی روح کو بھی اس غذا پر فدا کرنا چاہتا ہے وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا جیسا کہ مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اور خدا سے علیحدہ ایک دم بھی بسر کرنا اپنی موت سمجھتا ہے۔اور اس کی روح آستانہ الہی پر ہر وقت سجدہ میں رہتی ہے اور تمام آرام اُس کا خدا ہی میں ہو جاتا ہے اور اس کو یقین ہوتا ہے کہ میں اگر ایک طرفتہ العین بھی یاد الہی سے الگ ہوا تو بس میں مرا۔اور جس طرح روٹی سے جسم میں تازگی اور آنکھ اور کان وغیرہ اعضاء کی قوتوں میں توانائی آجاتی ہے۔اسی طرح اس مرتبہ پر یا دالہی جو عشق اور محبت کے جوش سے ہوتی ہے مومن کی روحانی قوتوں کو ترقی دیتی ہے یعنی آنکھ میں قوت کشف نہایت صاف اور لطیف طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور کان خدا تعالیٰ کے کلام کو سکتے ہیں اور زبان پر وہ کلام نہایت لذیذ اور اجلی اور اصفی طور پر جاری ہو جاتا ہے اور رویا ء صادقہ بکثرت ہوتے ہیں سے جو فلق صبح کی طرح ظہور میں آجاتے ہیں اور بباعث علاقہ صافیہ محبت جو حضرت عزت سے ہوتا ہے مبشر خوابوں سے بہت سا حصہ اُن کو ملتا ہے۔یہی وہ مرتبہ ہے 1 بہت سے نادان اس وہم میں گرفتار ہیں کہ ہمیں بھی بعض اوقات سچی خواب آ جاتی ہے یا سچا الہام ہو جاتا ہے تو ہم میں اور ایسے اعلیٰ مرتبہ کے لوگوں میں فرق کیا ہوا اور ان عالی مرتبہ لوگوں کی کیا خصوصیت باقی رہی۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس قدر طاقت خواب دیکھنے یا الہام کی اس غرض سے عام لوگوں کی فطرت میں رکھی گئی ہے کہ تا ان کے پاس بھی ان بار یک باتوں کا کسی قدر نمونہ ہو جو اس جہان سے وراء الوراء باتیں ہیں۔اور اس طرح پر وہ اپنے پاس ایک نمونہ دیکھ کر دولت قبول سے محروم ندر ہیں اور ان پر اتمام حجت ہو جائے۔ورنہ اگر انسانوں کی یہ حالت ہوتی کہ وحی اور ڈیا صادقہ کی حقیقت سے وہ بالکل بے خبر ہوتے تو بجز انکار کے کیا کر سکتے تھے اور اس حالت میں کسی قدر معذور تھے۔پھر جبکہ با وجود موجود ہونے اس نمونے کے زمانہ حال کے فلسفی اب تک وحی اور رو یا صادقہ کا انکار کرتے ہیں تو اس وقت عام لوگوں کا کیا حال ہوتا جب کہ ان کے پاس کوئی بھی نمونہ نہ ہوتا۔اور یہ خیال کہ ہمیں بھی بعض اوقات کچی خوابیں آ جاتی ہیں یا کوئی بچے الہام ہو جاتے ہیں اس سے رسولوں اور نبیوں کی عظمت میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ ایسے لوگوں کے رویا اور الہام شکوک اور شبہات کے دُخان سے خالی نہیں ہوتے اور با ایں ہمہ مقدار میں بھی کم ہوتے ہیں۔پس جیسا کہ ایک مفلس ایک پیسہ کے ساتھ ایک بادشاہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس بھی مال ہے اور اس کے پاس بھی ایسا ہی یہ مقابلہ بھی نیکی اور سراسر حماقت ہے۔منہ