تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 23

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳ سورة المؤمنون اب ظاہر ہے کہ انسان اسی چیز کی محافظت اور نگہبانی میں تمام تر کوشش کر کے ہر دم لگا رہتا ہے جس کے گم ہونے میں اپنی ہلاکت اور تباہی دیکھتا ہے جیسا کہ ایک مسافر جو ایک بیابان بے آب و دانہ میں سفر کر رہا ہے جس کے صد با کوس تک پانی اور روٹی ملنے کی کوئی امید نہیں وہ اپنے پانی اور روٹی کی جو ساتھ رکھتا ہے بہت محافظت کرتا ہے اور اپنی جان کے برابر اس کو سمجھتا ہے کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ضائع ہونے میں اس کی موت ہے۔پس وہ لوگ جو اُس مسافر کی طرح اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں اور گو مال کا نقصان ہو یا عزت کا نقصان ہو یا نماز کی وجہ سے کوئی ناراض ہو جائے نماز کو نہیں چھوڑتے اور اس کے ضائع ہونے کے اندیشہ میں سخت بے تاب ہوتے اور پیچ و تاب کھاتے گویا مر ہی جاتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ایک دم بھی یا دالہی سے الگ ہوں۔وہ در حقیقت نماز اور یاد الہی کو اپنی ایک ضروری غذا سمجھتے ہیں جس پر ان کی زندگی کا مدار ہے اور یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب خدا تعالیٰ اُن سے محبت کرتا ہے اور اس کی محبت ذاتیہ کا ایک افروختہ شعلہ جس کو روحانی وجود کے لئے ایک رُوح کہنا چاہیئے اُن کے دل پر نازل ہوتا ہے اور ان کو حیات ثانی بخش دیتا ہے اور وہ رُوح ان کے تمام وجود روحانی کو روشنی اور زندگی بخشتی ہے۔تب وہ نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے خدا کی یاد میں لگے رہتے ہیں بلکہ وہ خدا جس نے جسمانی طور پر انسان کی زندگی روٹی اور پانی پر موقوف رکھی ہے وہ ان کی روحانی زندگی کو جس سے وہ پیار کرتے ہیں اپنی یاد کی غذا سے وابستہ کر دیتا ہے۔اس لئے وہ اس روٹی اور پانی کو جسمانی روٹی اور پانی سے زیادہ چاہتے ہیں۔اور اس کے ضائع ہونے سے ڈرتے ہیں اور یہ اس رُوح کا اثر ہوتا ہے جو ایک شعلہ کی طرح اُن میں ڈالی جاتی ہے۔جس سے عشق الہی کی کامل مستی اُن میں پیدا ہو جاتی ہے اس لئے وہ یاد الہی سے ایک دم الگ ہونا نہیں چاہتے۔وہ اس کے لئے دکھ اُٹھاتے اور مصائب دیکھتے ہیں مگر اس سے ایک لحظہ بھی جدا ہونا نہیں چاہتے اور پاس انفاس کرتے ہیں۔اور اپنی نمازوں کے محافظ اور نگہبان رہتے ہیں۔اور یہ امر اُن کے لئے طبعی ہے کیونکہ درحقیقت خدا نے اپنی محبت سے بھری ہوئی یاد کو جس کو دوسرے لفظوں میں نماز کہتے ہیں ان کے لئے ایک ضروری غذا مقرر کر دیا ہے اور اپنی محبت ذاتیہ سے اُن پر تجلی فرما کر یاد الہی کی ایک دلکش لذت ان کو عطا کی ہے۔پس اس وجہ سے یاد الہی جان کی طرح بلکہ جان سے بڑھ کر ان کو عزیز ہوگئی ہے اور خدا کی ذاتی محبت ایک نئی رُوح ہے جو شعلہ کی طرح ان کے دلوں پر پڑتی ہے اور ان کی نماز اور یاد الہی کو ایک غذا کی طرح ان کے لئے بنادیتی ہے۔پس وہ یقین رکھتے ہیں کہ اُن کی زندگی روٹی اور پانی سے نہیں بلکہ نماز اور یاد الہی سے جیتے ہیں۔