تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 22

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲ سورة المؤمنون پر ملتی ہے اور ایک فوق العادت طاقت اور زندگی بخشتی ہے تب تک خدا کی امانتوں کے ادا کرنے اور اُن کے ٹھیک طور پر استعمال کرنے اور صدق کے ساتھ اس کا ایمانی عہد پورا کرنے اور ایسا ہی مخلوق کے حقوق اور عہدوں کے ادا کرنے میں وہ آب و تاب تقویٰ پیدا نہیں ہوتی جس کا حسن اور خوبی دلوں کو اپنی طرف کھینچے اور جس کی ہر ایک ادا فوق العادت اور اعجاز کے رنگ میں معلوم ہو بلکہ قبل اس روح کے تقویٰ کے ساتھ تکلف اور بناوٹ کی ایک ملونی رہتی ہے کیونکہ اس میں وہ رُوح نہیں ہوتی جو حسن روحانی کی آب و تاب دکھلا سکے اور یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ ایسے مومن کا قدم جو ابھی اس روح سے خالی ہے پورے طور پر نیکی پر قائم نہیں رہ سکتا بلکہ جیسا کہ ایک ہوا کے دھکا سے مُردہ کا کوئی عضو حرکت کر سکتا ہے اور جب ہوا دُور ہو جائے تو پھر مُردہ اپنی حالت پر آجاتا ہے ایسا ہی وجود روحانی کے پنجم درجہ کی حالت ہوتی ہے کیونکہ صرف عارضی طور پر خدا تعالیٰ کی نسیم رحمت اس کو نیک کاموں کی طرف جنبش دیتی رہتی ہے اور اس طرح تقویٰ کے کام اُس سے صادر ہوتے ہیں۔لیکن ابھی نیکی کی رُوح اس کے اندر آباد نہیں ہوتی اس لئے وہ حسن معاملہ اس میں پیدا نہیں ہوتا جو اس رُوح کے داخل ہونے کے بعد اپنا جلوہ دکھلاتا ہے۔غرض پنجم مرتبه وجود روحانی کا گو ایک ناقص مرتبہ حسن تقویٰ کا حاصل کر لیتا ہے مگر کمال اس حُسن کا وجودِ روحانی کے درجہ ششم پر ہی ظاہر ہوتا ہے جب کہ خدا تعالیٰ کی اپنی محبت ذاتیہ روحانی وجود کے لئے ایک رُوح کی طرح ہو کر انسان کے دل پر نازل ہوتی اور تمام نقصانوں کا تدارک کرتی ہے اور انسان محض اپنی قوتوں کے ساتھ کبھی کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ روح خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہ ہو۔جیسا کہ حافظ شیرازی نے فرمایا ہے ما بدان منزل عالی میتوانیم رسید ہاں مگر لطف تو چوں پیش نہد گامے چند پھر درجہ پنجم کے بعد چھٹا درجہ وجود روحانی کا وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَتِهِمْ يُحافظون یعنی چھٹے درجہ کے مومن جو پانچویں درجہ سے بڑھ گئے ہیں وہ ہیں جو اپنی نمازوں پر آپ محافظ اور نگہبان ہیں یعنی وہ کسی دوسرے کی تذکیر اور یاد دہانی کے محتاج نہیں رہے بلکہ کچھ ایسا تعلق ان کو خدا سے پیدا ہو گیا ہے اور خدا کی یاد کچھ اس قسم کی محبوب طبع اور مدار آرام اور مدار زندگی ان کے لئے ہو گئی ہے کہ وہ ہر وقت اس کی نگہبانی میں لگے رہتے ہیں اور ہر دم ان کا یاد الہی میں گزرتا ہے اور نہیں چاہتے کہ ایک دم بھی خدا کے ذکر سے الگ ہوں۔ا