تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 21

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱ سورة المؤمنون پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے جو انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لِباسُ التَّقوی قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے۔یہ تو وجود روحانی کا پانچواں درجہ ہے اور اس کے مقابل پر جسمانی وجود کا پانچواں درجہ وہ ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے فکسَوْنَا الْعِظمَ لَحْمًا۔یعنی پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت مڑھ دیا اور جسمانی بناوٹ کی کسی قدر خوبصورتی دکھلا دی۔یہ عجیب مطابقت ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے ایک جگہ روحانی طور پر تقویٰ کولباس قرار دیا ہے ایسا ہی گسونا کا لفظ جو کسوت سے نکلا ہے وہ بھی بتلا رہا ہے کہ جو گوشت ہڈیوں پر مڑھا جاتا ہے وہ بھی ایک لباس ہے جو ہڈیوں پر پہنایا جاتا ہے۔پس یہ دونوں لفظ دلالت کر رہے ہیں کہ جیسی خوبصورتی کا لباس تقویٰ پہناتی ہے ایسا ہی وہ کسوت جو ہڈیوں پر چڑھائی جاتی ہے ہڈیوں کے لئے ایک خوبصورتی کا پیرا یہ بخشتی ہے۔وہاں لباس کا لفظ ہے اور یہاں کسوت کا اور دونوں کے معنے ایک ہیں اور نص قرآنی بآواز بلند پکار رہی ہے کہ دونوں کا مقصد خوبصورتی ہے اور جیسا کہ انسان کی رُوح پر سے اگر تقویٰ کا لباس اتار دیا جائے تو روحانی بدشکلی اس کی ظاہر ہو جاتی ہے۔اسی طرح اگر وہ گوشت و پوست جو حکیم مطلق نے انسان کی ہڈیوں پر مڑھا ہے اگر ہڈیوں پر سے اتار دیا جائے تو انسان کی جسمانی شکل نہایت مکروہ نکل آتی ہے مگر اس درجہ پنجم میں خواہ درجہ پنجم وجود جسمانی کا ہے اور خواہ درجہ پنجم وجود روحانی کا ہے کامل خوبصورتی پیدا نہیں ہوتی۔کیونکہ ابھی رُوح کا اُس پر فیضان نہیں ہوا۔یہ امر مشہو دو محسوس ہے کہ ایک انسان گو کیسا ہی خوبصورت ہو جب وہ مر جاتا ہے اور اُس کی روح اس کے اندر سے نکل جاتی ہے تو ساتھ ہی اس حُسن میں بھی فرق آ جاتا ہے جو اُس کو قدرت قادر نے عطا کیا تھا۔حالانکہ تمام اعضاء اور تمام نقوش موجود ہوتے ہیں مگر صرف ایک رُوح کے نکلنے سے انسانی قالب کا گھر ایک ویران اور سُنسان سا معلوم ہوتا ہے اور آب و تاب کا نشان نہیں رہتا۔یہی حالت روحانی وجود کے پانچویں درجہ کی ہے کیونکہ یہ امر بھی مشہود ومحسوس ہے کہ جب تک کسی مومن میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس رُوح کا فیضان نہ ہو جو و جو در وحانی کے چھٹے درجہ