تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 20

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة المؤمنون ہیں۔اگر کوئی تنازع واقع ہو تو تقویٰ کو مد نظر رکھ کر اس کا فیصلہ کرتے ہیں گو اس فیصلہ میں نقصان اٹھا لیں۔یہ درجہ چوتھے درجہ سے اس لئے بڑھ کر ہے کہ اس میں حتی الوسع تمام اعمال میں تقویٰ کی باریک راہوں سے کام لینا پڑتا ہے اور حتی الوسع جمیع امور میں ہر ایک قدم تقویٰ کی رعایت سے اٹھانا پڑتا ہے مگر چوتھا درجہ صرف ایک ہی موٹی بات ہے اور وہ یہ کہ زنا سے اور بدکاریوں سے پر ہیز کرنا اور ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ زنا ایک بہت بے حیائی کا کام ہے اور اس کا مرتکب شہوات نفس سے اندھا ہوکر ایسانا پاک کام کرتا ہے جو انسانی نسل کے حلال سلسلہ میں حرام کو ملا دیتا ہے اور تضیع نسل کا موجب ہوتا ہے۔اسی وجہ سے شریعت نے اس کو ایسا بھاری گناہ قرار دیا ہے کہ اسی دنیا میں ایسے انسان کے لئے حد شرعی مقرر ہے۔پس ظاہر ہے کہ مومن کی تکمیل کے لئے صرف یہی کافی نہیں کہ وہ زنا سے پر ہیز کرے کیونکہ زنا نہایت درجہ مفسد طبع اور بے حیا انسانوں کا کام ہے اور یہ ایک ایسا موٹا گناہ ہے جو جاہل سے جاہل اس کو برا سمجھتا ہے اور اس پر بجز کسی بے ایمان کے کوئی بھی دلیری نہیں کر سکتا۔پس اس کا ترک کرنا ایک معمولی شرافت ہے کوئی بڑے کمال کی بات نہیں لیکن انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے لیے تقویٰ کی باریک را ہیں رُوحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں سے کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضاء ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں۔ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور نا جائز مواضع سے روکنا اور ان کے اے ایمان کے لئے خشوع کی حالت مثل بیج کے ہے اور پھر لغو باتوں کے چھوڑنے سے ایمان اپنا نرم نرم سبزہ نکالتا ہے اور پھر اپنا مال بطور زکوۃ دینے سے ایمانی درخت کی ٹہنیاں نکل آتی ہیں جو اس کو کسی قدر مضبوط کرتی ہیں اور پھر شہوات نفسانیہ کا مقابلہ کرنے سے ان ٹہنیوں میں خوب مضبوطی اور تختی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر اپنے عہد اور امانتوں کی تمام شاخوں کی محافظت کرنے سے درخت ایمان کا اپنے مضبوط تنہ پر کھڑا ہو جاتا ہے اور پھر پھل لانے کے وقت ایک اور طاقت کا فیضان اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس طاقت سے پہلے نہ درخت کو پھل لگ سکتا ہے نہ پھول۔وہی طاقت روحانی پیدائش کے مرتبہ ششم میں خلق آخر کہلاتی ہے اور اسی مرتبہ ششم پر انسانی کمالات کے پھل اور پھول ظاہر ہونے شروع ہوتے ہیں اور انسانی درخت کی روحانی شاخیں نہ صرف مکمل ہو جاتی ہیں بلکہ اپنے پھل بھی دیتی ہیں۔منہ ایمانی عہدوں سے مراد وہ عہد ہیں جو انسان بیعت اور ایمان لانے کے وقت ان کا اقرار کرتا ہے جیسے یہ کہ وہ خون نہیں کرے گا۔چوری نہیں کرے گا۔جھوٹی گواہی نہیں دے گا۔خدا سے کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گا اور اسلام اور پیروی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مرے گا۔