تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 18

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۸ سورة المؤمنون نہایت سخت اور نہایت دیر پا ہے کیونکہ اس کا کام یہ ہے کہ نفس اتارہ جیسے پرانے اثر دہا کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالتی ہے۔اور بخل تو شہوات نفسانیہ کے پورا کرنے کے جوش میں اور نیز ریا اور نمود کے وقتوں میں بھی دُور ہوسکتا ہے مگر یہ طوفان جو نفسانی شہوات کے غلبہ سے پیدا ہوتا ہے۔یہ نہایت سخت اور دیر پا طوفان ہے جو کسی طرح بجز رحم خداوندی کے دور ہو ہی نہیں سکتا اور جس طرح جسمانی وجود کے تمام اعضاء میں سے ہڈی نہایت سخت ہے اور اس کی عمر بھی بہت لمبی ہے اسی طرح اس طوفان کے دور کرنے والی قوتِ ایمانی نہایت سخت اور عمر بھی بھی رکھتی ہے تا ایسے دشمن کا دیر تک مقابلہ کر کے پامال کر سکے اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے رحم سے کیونکہ شہوات نفسانیہ کا طوفان ایک ایسا ہولناک اور پر آشوب طوفان ہے کہ بجز خاص رحم حضرت احدیت کے فرو نہیں ہو سکتا۔اسی وجہ سے حضرت یوسف کو کہنا پڑا وَمَا أُبَرَى نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبّی (یوسف :۵۴) یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا نفس نہایت درجہ بدی کا حکم دینے والا ہے اور اس کے حملہ سے مخلصی غیر ممکن ہے مگر یہ کہ خود خدا تعالیٰ رحم فرما دے۔اس آیت میں جیسا کہ فقره الا مَا رَحِمَ رَبّی ہے طوفان نوح کے ذکر کے وقت بھی اسی کے مشابہ الفاظ ہیں کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ (هود) (۴۴) پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طوفان شہوات نفسانیہ اپنی عظمت اور ہیبت میں نوح کے طوفان سے مشابہ ہے۔اور اس درجہ روحانی کے مقابل پر جو وجو د روحانی کا چوتھا درجہ ہے جسمانی وجود کا درجہ چہارم ہے جس کے بارے میں قرآن شریف میں یہ آیت ہے فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظا یعنی پھر ہم نے مضغہ سے ہڈیاں بنائیں۔اور ظاہر ہے کہ ہڈیوں میں بہ نسبت مضغہ یعنی بوٹی کے زیادہ صلابت اور تختی پیدا ہو جاتی ہے اور نیز بڑی بہ نسبت مضغہ کے بہت دیر پا ہے اور ہزاروں برس تک اس کا نشان رہ سکتا ہے پس وجود روحانی کے درجہ چہارم اور وجود جسمانی کے درجہ چہارم میں مشابہت ظاہر ہے کیونکہ وجود روحانی کے درجہ چہارم میں بہ نسبت وجود روحانی کے درجہ سوم کے ایمانی شدت اور صلابت زیادہ ہے اور خدائے رحیم سے تعلق بھی زیادہ۔ایسا ہی وجود جسمانی کے درجہ چہارم میں جو استخوان کا پیدا ہونا ہے بہ نسبت درجہ سوم وجود جسمانی کے جو حض مضغہ یعنی ہوئی ہے جسمانی طور پر شدت اور صلابت زیادہ ہے اور رحم سے تعلق بھی زیادہ۔پھر چہارم درجہ کے بعد پانچواں درجہ وجود روحانی کا وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے وَالَّذِيْنَ هُمْ لِأَمْنَتِهِمْ وَعَهْدِهِم رُعُونَ۔یعنی پانچویں درجہ کے مومن جو چوتھے درجہ سے