تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 434

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۴ سورة فاطر ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا۔ہم نے کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جن کو ہم نے چن لیا۔یعنی ان لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جیسے ایک مکان کی کل کھڑکیاں کھلی ہیں کہ کوئی گوشہ تاریکی کا اس میں نہیں اور روشنی خوب صاف اور کھلی آرہی ہے۔اسی طرح ان کے مکالمہ کا حال ہوتا ہے۔۔۔۔کہ اجلی اور بہت کثرت سے ہوتا ہے۔(الہدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۴۲) دعاوہ ہوتی ہے جو کہ خدا کے پیارے کرتے ہی ورنہ یوں تو خدا تعالیٰ ہندوؤں کی بھی سنتا ہے اور بعض ان کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں مگر ان کا نام ابتلاء ہے دعا نہیں۔مثلاً اگر خدا سے کوئی روٹی مانگے تو کیا نہ دے گا؟ اس کا وعدہ ہے مَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا - کتے بلی بھی تو اکثر پیٹ پالتے ہیں۔کیڑوں مکوڑوں کو بھی رزق ملتا ہے مگر اضطفینا کا لفظ خاص موقعوں کے لئے ہے۔ج البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۲۸) خدا تعالیٰ نے بھی اپنے بندوں میں امتیاز رکھا ہے جیسے کہ فرمایا ہے فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ ۚ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُم سَابِقُ بِالْخَيْراتِ۔۔۔۔۔ضروری بات یہ ہے کہ تم لوگ ان باتوں کی طرف متوجہ نہ ہو اور تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرو تمہارا معاملہ اور حساب خدا سے الگ ہے اور مخالف لوگوں کا حساب الگ ہے جنہوں نے قسم کھائی ہے کہ کیسی ہی سچی بات کیوں نہ ہو مگر وہ قبول نہ کریں گے۔اللہ تعالیٰ بھی ان کی نسبت یہی فرماتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کو ہی قبول کریں گے۔ان کی بناوٹ ہی اس قسم کی ہے کہ عمدہ شے یا بات جو پیش کی جاوے وہ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اگر بد بودار بات ہو تو خوش ہوتے ہیں۔قرآن شریف، احادیث اور عقلی دلائل اور نشان پیش کئے مگر یہ لوگ ان کی پروا نہیں کرتے۔صرف ایک بات کو نشانہ بناتے ہیں۔پس جب کہ خدا نے نہ چاہا کہ ایک مذہب ہو تو ہم کیا کر سکتے ہیں مگر جن لوگوں کو خدا نے فہم سلیم عطا کیا ہے ان کو چاہیے کہ وہ شکر کریں کیونکہ فائدہ اُٹھانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کو خدا نے خود پاک کیا۔احکم جلد ۸ نمبر ۳۵،۳۴ مورخه ۱۰ تا ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۴ صفحه ۱) تین قسم کے مومن ہوتے ہیں۔ایک تو ظالم لنفسہ ہوتے ہیں۔ان میں گناہ کی آلائش موجود ہوتی ہے بعض میانہ رو اور بعض سراسر نیک ہوتے ہیں۔اب ہمیں کیا معلوم ہے کہ کون کس درجہ اور مقام پر ہے۔ہر ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ الگ معاملہ ہے جیسا کوئی اس سے تعلق رکھتا ہے ویسا ہی وہ اس سے معاملہ کرتا ہے جو لوگ کامل الایمان ہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے امتیاز دے گا کیونکہ مومن اور کافر کے