تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 433

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۳ سورة فاطر تیک دوسرے اس کو نیکی ہی سمجھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی معرفت اور بصیرت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے جو صوفی کہتے ہیں حَسَناتُ الْأَبْرَارِ سَيْئَاتُ الْمُقَرَّبِينَ - الحکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۶،۵) تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو ظالم نفسہ کہلاتے ہیں ان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ خواہشِ نفس ان پر غالب ہوتی ہے اور وہ گو یا پنجہ نفس میں گرفتار ہوتے ہیں۔دوم وہ لوگ ہیں جو مقتصد یعنی میانہ رو کہلاتے ہیں یعنی کبھی نفس ان پر غالب ہو جاتا ہے اور کبھی وہ نفس پر غالب ہو جاتے ہیں اور پہلی حالت سے نکل چکے ہوتے ہیں۔لیکن تیسر اگر وہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو پنج نفس سے بکلی رہائی پالیتے ہیں اور وہ سابق بالخیرات کہلاتے ہیں یعنی نیکی کرنے میں سب سے سبقت لے جاتے ہیں اور وہ محض خدا ہی کے لئے ہو جاتے ہیں۔ان میں علمی اور عملی قوت آجاتی ہے۔ایسے لوگ خدمت دین کے لئے مفید اور کارآمد ہوتے ہیں۔القام جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخہ ۷ار جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۴) فطرتا انسان تین قسم کے ہوتے ہیں ایک فطر نا ظالم لنفسہ دوسرے مقتصد یعنی کچھ نیکی سے بہرہ ور اور کچھ برائی سے آلودہ سوم برے کاموں سے متنفر اور سابق بالخرات۔پس یہ آخری سلسلہ ایسا ہوتا ہے کہ اجتبی اور اصطفی اس کے مراتب پر پہنچتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کا گروہ ایسے پاک سلسلہ میں سے ہوتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ جاری ہے دنیا ایسے لوگوں سے خالی نہیں۔( حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت الوجود پر ایک خط صفحہ ۲۲) پہلی دونوں صفات اونی ہیں سابق بالخیرات بننا چاہیے۔ایک ہی مقام پر ٹھیر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔دیکھو ٹھیرا ہوا پانی آخر گندہ ہو جاتا ہے۔کیچڑ کی صحبت کی وجہ سے بد بودار اور بدمزہ ہو جاتا ہے۔چلتا ا پانی ہمیشہ عمدہ، ستھرا اور مزیدار ہوتا ہے اگر چہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہومگر کیچڑ اس پر کچھ اثر نہیں کرسکتا۔یہی حال انسان کا ہے کہ ایک ہی مقام پر ٹھیر نہیں جانا چاہیے یہ حالت خطرناک ہے ہر وقت قدم آگے ہی رکھنا چاہیے۔نیکی میں ترقی کرنی چاہیے ورنہ خدا انسان کی مدد نہیں کرتا اور اس طرح سے انسان بے نور ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ آخر کار بعض اوقات ارتداد ہو جاتا ہے۔اس طرح سے انسان دل کا اندھا ہو جاتا ہے۔خدا کی نصرت انہی کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں ایک جگہ نہیں ٹھیر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔انتقام جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۶)