تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 14

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۴ سورة المؤمنون درندگان دشمن ایمان و دشمن جان قدم قدم پر بیٹھے ہیں تا وقتیکہ وجود روحانی کے دوسرے مرتبہ تک نہ پہنچ جائے۔یادر ہے کہ خشوع اور معجز و نیاز کی حالت کو یہ بات ہر گز لازم نہیں ہے کہ خدا سے سچا تعلق ہو جائے بلکہ بسا اوقات شریر لوگوں کو بھی کوئی نمونہ قہر الہی دیکھ کر خشوع پیدا ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ان کو کچھ بھی تعلق نہیں ہوتا اور نہ لغو کاموں سے ابھی رہائی ہوتی ہے۔مثلاً وہ زلزلہ جو چارا پریل ۱۹۰۵ء کو آیا تھا اُس کے آنے کے وقت لاکھوں دلوں میں ایسا خشوع اور سوز و گداز ہوا تھا کہ بجز خدا کے نام لینے اور رونے کے اور کوئی کام نہ تھا یہاں تک کہ دہریوں کو بھی اپنا د ہر یہ پن بھول گیا تھا۔اور پھر جب وہ وقت جاتا رہا اور زمین ٹھہر گئی تو حالتِ خشوع نابود ہوگئی یہاں تک کہ میں نے سنا ہے کہ بعض دہریوں نے جو اس وقت خدا کے قائل ہو گئے تھے بڑی بے حیائی اور دلیری سے کہا کہ ہمیں غلطی لگ گئی تھی کہ ہم زلزلہ کے رعب میں آگئے ورنہ خدا نہیں ہے۔غرض جیسا کہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں خشوع کی حالت کے ساتھ بہت گند جمع ہو سکتے ہیں البتہ وہ تمام آئندہ کمالات کے لئے تخم کی طرح ہے مگر اسی حالت کو کمال سمجھنا اپنے نفس کو دھوکہ دینا ہے۔بلکہ بعد اس کے ایک اور مرتبہ ہے جس کی تلاش مومن کو کرنی چاہئے اور کبھی آرام نہیں لینا چاہئے اورست نہیں ہونا چاہئے جب تک وہ رتبہ حاصل نہ ہو جائے اور وہ وہی مرتبہ ہے جس کو کلامِ الہی نے ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یعنی مؤمن صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے اور سوز و گداز ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ جو باوجود خشوع اور سوز و گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعاً تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت اُن کے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہے اور یہ اس بات پر دلیل ہوتی ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق ہو گیا ہے کیونکہ ایک طرف سے انسان تب ہی منہ پھیرتا ہے جب دوسری طرف اس کا تعلق ہو جاتا ہے۔پس دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو سیر و تماشا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اُسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے۔ایسا ہی نطفہ بھی اسی وقت لغوطور پر ضائع ہو جانے سے محفوظ ہوتا ہے جب رحم سے اس کا تعلق ہو جائے اور رحم کا اثر اس پر غالب آجائے اور اس تعلق کے وقت نطفہ کا نام علاقہ ہو جاتا ہے۔پس اسی طرح