تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 412

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۲ سورة سبا نہیں مان سکتے جو قرآن شریف کے بیان کردہ قانون قدرت کے خلاف ہو۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶) يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَ تَمَاثِيلَ وَجِفَانِ كَالْجَوَابِ وَقُدُورِ رسِيتِ اِعْمَلُوا ال داؤد شكرًا وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ بعض خام خیال کو تاہ فہم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہر ایک آدمی کو جہنم میں ضرور جانا ہوگا یہ غلط ہے ہاں اس میں شک نہیں کہ تھوڑے ہیں جو جہنم کی سزا سے بالکل محفوظ ہیں اور یہ تعجب کی بات نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے قَلِيلٌ مِنْ عِبَادِى الشَّكُورُ - انتقام جلد ۴ نمبر ۳۳ مورخه ۱۶ ستمبر ۱۹۰۰ صفحه ۶) خوش قسمت وہی انسان ہے جو ایسے مردانِ خدا کے پاس رہ کر (جن کو اللہ تعالیٰ اپنے وقت پر بھیجتا ہے ) اس غرض اور مقصد کو حاصل کرلے جس کے لئے وہ آتے ہیں۔ایسے لوگ اگر چہ تھوڑے ہوتے ہیں لیکن ہوتے ضرور ہیں۔وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشكُورُ۔اگر تھوڑے نہ ہوتے تو پھر بے قدری ہو جاتی۔یہی وجہ ہے کہ سونا چاندی ، لو ہے اور ٹین کی طرح عام نہیں ہے۔(احکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۵) خدا تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے قَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشکور کہ شاکر اور سمجھدار بندے ہمیشہ کم ہوتے ہیں جو کہ حقیقی طور پر قرآن پر چلنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو اپنی محبت اور تقویٰ عطا کیا ہے۔وہ خواہ قلیل ہوں مگر اصل میں وہی سواد اعظم ہے۔احکام جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ فروری ۱۹۰۴ صفحه ۲) اللہ تعالیٰ کثرت اور تعداد کے رعب میں نہیں آتا قَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ۔دیکھو حضرت نوح کے وقت کس قدر مخلوق غرق آب ہوئی اور ان کے بالمقابل جو لوگ بچ گئے ان کی تعداد کس قدر تھی۔بدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۶ را پریل ۱۹۰۶ صفحه ۲) فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَر تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ (۱۵) سلیمان کی موت پر دلالت کرنے والا کوئی امر نہ تھا۔یہ ساری شرارت گو یا دابتہ الارض کی تھی کہ اس نے عصا کھا لیا اور وہ گر پڑا خدا تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ سچ ہے۔یہ قصے اور داستانیں نہیں ہیں بلکہ یہ حقائق