تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 411

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ ۴۱۱ سورة سبا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة سبا بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ وَلَقَد أَتَيْنَا دَاوُدَ مِنَا فَضْلًا يُجِبَالُ اَوْبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَ النَّا لَهُ الْحَدِيدَ اے پہاڑ واوراے پرند و میرے اس بندہ کے ساتھ وجد اور رقت سے میری یاد کرو۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۹۳) تدا بیر مشہودہ سے الگ ہو کر جو فعل ہوتا ہے اس میں اعجازی رنگ ہوتا ہے۔معجزات جن باتوں میں صادر ہوتے ہیں ان میں سے بہت سے افعال ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان میں شریک ہوتے ہیں مگر نبی ان تدابیر اور اسباب سے الگ ہو کر وہی فعل کرتا ہے اس لئے وہ معجزہ ہوتا ہے اور یہی بات یہاں سلیمان کے قصہ میں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کیا لوگ قصائد نہ کہتے تھے ؟ کہتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلام فصیح و بلیغ پیش کیا تو وہ جوڑ توڑ کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وحی سے تھا۔اس لئے معجزہ تھا کہ درمیان اسباب عادیہ نہ تھے۔آپ نے کوئی تعلیم نہ پائی تھی اور بدوں کوشش کے وہ کلام آپ نے پیش کیا۔غرض اسی طرح پر لو با نرم کرنے کا معجزہ ہے کہ اس میں اسباب عادیہ نہ تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے اور معنی بھی ہوں مشکلات صعب سے بھی مراد لو ہا ہوتا ہے۔وہ حضرت سلیمان پر آسان ہو گئیں مگر اصل اعجاز کا کسی حال میں ہم انکار نہیں کرتے ورنہ اگر خدا تعالیٰ کی ان قدرتوں پر ایمان نہ ہو تو پھر خدا کو کیا مانا ہم اس کو خارق عادت