تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 402
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۲ سورة الاحزاب لیا۔بلکہ نعوذ باللہ یوں کہنا پڑے گا کہ سب سے زیادہ ظالم اور جاہل انبیاء اور رسول تھے جنہوں نے سب سے پہلے اس امانت کو اٹھالیا حالانکہ اللہ جل شانہ آپ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے پھر وہ سب سے بدتر کیوں کر ہوا اور انبیاء کو سید العادلین قرار دیا ہے پھر وہ ظلوم وجہول دوسرے معنوں کی رو سے کیوں کر کہلاویں۔ماسوا اس کے ایسا خیال کرنے میں خدا تعالیٰ پر بھی اعتراض لازم آتا ہے کہ اس کی امانت جو وہ دینی چاہتا تھا وہ کوئی خیر اور صلاحیت اور برکت کی چیز نہیں تھی بلکہ شر اور فساد کی چیز تھی کہ شریر اور ظالم نے اس کو قبول کیا اور نیکوں نے اس کو قبول نہ کیا مگر کیا خدا تعالیٰ کی نسبت یہ بدظنی کرنا جائز ہے کہ جو چیز اس کے چشمہ سے نکلے اور جس کا نام وہ اپنی امانت رکھے جو پھر اسی کی طرف رڈ ہونے کے لائق ہے وہ در حقیقت نعوذ باللہ خراب اور پلید چیز ہو جس کو بجز ایسے ظلوم کے جو در حقیقت سرکش اور نافرمان اور نعمت عدل سے بکلی بے نصیب ہے کوئی دوسرا قبول نہ کر سکے۔افسوس کہ ایسے مکروہ خیالوں والے کچھ بھی خدا تعالیٰ کی عظمت نگہ نہیں رکھتے وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ امانت اگر سراسر خیر ہے تو اس کا قبول کر لینا ظلم میں کیوں داخل ہے اور اگر امانت خود شر اور فساد کی چیز ہے تو پھر وہ خدا تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کی جاتی ہے۔کیا خدا تعالیٰ نعوذ باللہ فساد کا مبدا ہے اور کیا جو چیز اس کے پاک چشمہ سے نکلتی ہے اس کا نام فساد اور شر رکھنا چاہیئے ؟ ظلمت ظلمت کی طرف جاتی ہے اور نور نور کی طرف سوامانت نور تھی اور انسان ظلوم جہول بھی ان معنوں کر کے جو ہم بیان کر چکے ہیں ایک نور ہے اس لئے نور نے نور کو قبول کر لیا۔وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملایک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں اور امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قویٰ اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے اور پھر انسان کامل برطبق آيت إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا ( النساء : ۵۹)۔اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔جیسا کہ ہم مضمون حقیقت اسلام