تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 396

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۶ سورة الاحزاب وہ خدا کی طرف بلانے والا ہے اور وہ ایک روشن چراغ ہے جو اپنی ذات میں روشن اور دوسروں کو روشنی تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۶۲) پہنچاتا ہے۔وہ خدا کی طرف بلاتا تھا اور شرک سے دور کرتا تھا اور وہ ایک چراغ تھا زمین پر روشنی پھیلانے والا۔( نزول امسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۰۲) ایک گاؤں میں نوا گھر تھے اور صرف ایک گھر میں چراغ جلتا تھا تب جب لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ اپنے اپنے چراغ لے کر آئے اور سب نے اس چراغ سے اپنے چراغ روشن کئے۔اسی طرح ایک روشنی سے کثرت ہو سکتی ہے۔اسی طرف اللہ تعالی اشارہ کر کے فرماتا ہے وَدَاعِيَا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا - (براہین احمدیہ حصہ باشیم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲۵) خدا کی طرف سے روحانی اصلاح کے لئے مقرر ہونے والے لوگ چراغ کی طرح ہوتے ہیں اسی واسطے قرآن شریف میں آپ کا نام دَاعِيًا إِلَى اللهِ وَسِرَاجًا منيرا آیا ہے دیکھو کسی اندھیرے مکان میں جہاں سو پچاس آدمی ہوں اگر ان میں سے ایک کے پاس چراغ روشن ہو تو سب کو اس کی طرف رغبت ہوگی اور چراغ ظلمت کو پاش پاش کر کے اجالا اور نور کر دے گا۔اس جگہ آپ کا نام چراغ رکھنے میں ایک اور باریک حکمت یہ ہے کہ ایک چراغ سے ہزاروں لاکھوں چراغ روشن ہو سکتے ہیں اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں آتا۔چاند سورج میں یہ بات نہیں اس سے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت کرنے سے ہزاروں لاکھوں انسان اس مرتبہ پر پہنچیں گے اور آپ کا فیض خاص نہیں بلکہ عام اور جاری ہو گا۔غرض یہ سنت اللہ ہے کہ ظلمت کی انتہا کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بعض صفات کی وجہ سے کسی انسان کو اپنی طرف سے علم اور معرفت دے کر بھیجتا ہے اور اس کے کلام میں تاثیر اور اس کی توجہ میں جذب اور اس کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں مگر وہ انہی کو جذب کرتے ہیں اور انہی پر ان کی تاثیرات اثر کرتی ہیں جو اس انتخاب کے لائق ہوتے ہیں دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سراجا مبرا ہے مگر ابو جہل نے کہاں قبول کیا ؟ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۱۱) وَ لَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَدَعْ اَذْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۖ وَكَفَى بِاللهِ وكيلات گفی الله وكيلا۔۔۔۔یعنی خدا اپنے کاموں کا آپ ہی وکیل ہے کسی دوسرے کو پوچھ پوچھ کر احکام