تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 395

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۵ سورة الاحزاب وَهُوَ فَيْضُ صِفَةِ الرَّحِيمِيَّةِ وَلَا يَنْزِلُ فيضِ رحیمیت اسی شخص پر نازل ہوتا ہے جو فیوض هَذَا الْفَيْضُ إِلَّا عَلَى النَّفْسِ الَّتى سَخى مترقبہ کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے اس لئے یہ ان سَعْيَهَا لِكَسْبِ الْفُيُوضِ الْمُتَرَقِّبَةِ لوگوں سے خاص ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے وَلِذَالِكَ يَختَصُّ بِالَّذِينَ آمَنُوا وَ أَطَاعُوا اپنے رب کریم کی اطاعت کی جیسے اللہ تعالیٰ کے اس ربا كَرِيمًا كَمَا صُرِحَ في قَوْلِهِ تَعَالَى كَانَ قول وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيْماً میں تصریح کی گئی بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا (اعجاز المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۳۶، ۱۳۷) ہے۔(ترجمہ از مرتب) وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيران انبیاء جمله سلسله متفاوته فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویاوہ نور مجسم ہو گئے ہیں اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللهِ نُورٌ وَ كِتب مُبِينٌ ( المائدة : ١٢) وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا یہی حکمت ہے کہ نو روحی جس کے لئے نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور انہیں سے مخصوص ہوا۔( براہین احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۹۶ حاشیه ) وَ كَذَالِكَ لَفظ الْمَنَارِةِ الَّتِي جَاءَ في حدیث میں جو لفظ منارہ آیا ہے اس سے نور کی جگہ مراد الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ يَعْنِی بِهِ مَوْضَعَ نُورٍ وَ قَدْ ہے اور کبھی اس کا اطلاق اس نشانِ راہ پر ہوتا ہے جس سے يُطلَقُ عَلى عِلْمٍ تَهْتَدِی به فهذه راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔پس یہ اس بات کی طرف اشارہ إِشَارَةٌ إِلى أَنَّ الْمَسِيحَ الْأَتِي يُعْرَفُ ہے کہ آنے والا صحیح اپنے دعوی سے پہلے ظاہر ہونے والے بِأَنْوَارٍ تَسْبِقُ دَعْوَاهُ فَهِيَ تَكُونُ لَه انوار کی وجہ سے پہچانا جائے گا اور وہ اس کے لئے ایسی كَعِلْمٍ بِهِ يَهْتَدُونَ۔وَ نَظِيرُهُ فِي الْقُرْآنِ علامات کی مانند ہوں گے جس کے ذریعہ لوگ ہدایت پائیں قَوْله تَعَالَى وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِاِذْنِهِ وَ گے اور اس کی نظیر قرآن مجید میں موجود ہے جیسے فرما یا و داعياً إلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا ( ترجمه از مرتب ) سِرَاجًا منيرا ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۵۸،۴۵۷)