تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 387
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۷ سورة الاحزاب کوئی ایک فردضرور خدا کی ہمکلامی سے مشرف ہوں گے۔اسلام پر سے گرد و غبار کو دور کر کے پھر اسلام کے روشن چہرے کو چمکا کر دکھایا کریں۔ان لوگوں سے اگر پوچھا جاوے کہ تمہارے پاس سچائی کی دلیل ہی کون سی ہے؟ کوئی معجزات یا خارق عادت تمہارے پاس نہیں تو دوسروں کا حوالہ دیں گے خود خالی اور محروم ہیں۔صحابہ آنحضرت کے پاس رہ کر اور آپ کی صحبت کی برکت سے آنحضرت کے ہی رنگ میں رنگین ہو گئے تھے اور ان کے ایمانوں کے واسطے آنحضرت کی پیشگوئیاں اور معجزات کثرت سے دیکھنے اور ہر وقت مشاہدہ کرنے سے ان کے ایمانوں کا تزکیہ اور تربیت ہوتی گئی اور آخر کار ترقی کرتے کرتے وہ کمال تمام تک پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگین ہو گئے مگر ان لوگوں کے ایمانوں کو مضبوط کرنے کے واسطے اگر ان سے پوچھا جاوے تو کیا ہے؟ تیرہ سو برس کا حوالہ دیں گے کہ اس وقت یہ معجزات اور خارق عادت ظاہر ہوا کرتے تھے۔پیشگوئیاں بھی تھیں مگر اب کچھ بھی نہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۵) نبوت جو اللہ تعالیٰ نے اب قرآن شریف میں آنحضرت کے بعد حرام کی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اب اس امت کو کوئی خیر و برکت ملے گی ہی نہیں اور نہ اس کو شرف مکالمات اور مخاطبات ہوگا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت کی مہر کے سوائے اب کوئی نبوت نہیں چل سکے گی۔اس امت کے لوگوں پر جو نبی کا لفظ نہیں بولا گیا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے بعد تو نبوت ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی آنحضرت جیسے عالیجناب اولو العزم صاحب شریعت کمال آنے والے تھے اسی وجہ سے ان کے واسطے یہ لفظ جاری رکھا گیا مگر آنحضرت کے بعد چونکہ ہر ایک قسم کی نبوت بجز آنحضرت کی اجازت کے بند ہو چکی تھی اس واسطے ضروری تھا کہ اس کی عظمت کی وجہ سے وہ لفظ نہ بولا جاتا - مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَم اللہن اس آیت میں اللہ تعالی نے جسمانی طور سے آپ کی اولاد کی نفی بھی کی ہے اور ساتھ ہی روحانی طور سے اثبات بھی کیا ہے کہ روحانی طور سے آپ باپ بھی ہیں اور روحانی نبوت اور فیض کا سلسلہ آپ کے بعد جاری رہے گا اور وہ آپ میں سے ہو کر جاری ہوگا نہ الگ طور سے۔وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مہر ہوگی۔ورنہ اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ جو کہا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ (ال عمران : 1) یہ جھوٹ تھا نعوذ باللہ۔اگر یہ معنے کئے جاویں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر