تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 386
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سامنے پیش کرو۔۳۸۶ سورة الاحزاب یہی ایک آیت زبردست دلیل ہے اس امر پر جو ہم کہتے کہ حضرت عیسی دوبارہ نہیں آویں گے بلکہ آنے والا اس امت میں سے ہوگا۔کیونکہ وہ نبی ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص نبوت کا فیضان حاصل کر سکتا ہی نہیں جب تک وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استفاضہ نہ کرے جو صاف لفظوں وہ اللہ نہ میں یہ ہے کہ آپ کی امت میں داخل نہ ہو۔اب خاتم النبین والی آیت تو صریح روکتی ہے پھر وہ کس طرح آسکتے ہیں۔یا ان کو نبوت سے معزول کرو اور ان کی یہ ہتک اور بے عزتی روا رکھو اور یا یہ کہ پھر ماننا پڑے گا کہ آنے والاسی امت میں سے ہوگا۔نبی کی اصطلاح مستقل نبی پر بولی جاتی ہے مگر اب خاتم النبیین کے بعد یہ مستقل نبوت رہی ہی نہیں۔اسی لئے کیا ہے۔خارقے کز ولی مسموع است معجزه آں نبی متبوع است اس بات کو خوب غور سے یاد رکھو کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کو نبوت کا شرف پہلے سے حاصل ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ پھر آئیں اور اپنی نبوت کو کھو دیں۔یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مستقل نبی کو روکتی ہے البتہ یہ امر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بڑھانے والا ہے کہ ایک شخص آپ ہی کی امت سے آپ ہی کے فیض سے وہ درجہ حاصل کرتا ہے جو ایک وقت مستقل نبی کو حاصل ہوسکتا تھا لیکن اگر وہ خود ہی آئیں تو پھر صاف ظاہر ہے کہ پھر اس خاتم الانبیاء والی آیت کی تکذیب لازم آتی ہے اور خاتم الانبیاء حضرت مسیح ٹھہریں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا بالکل غیر مستقل ٹھہر جاوے گا کیونکہ آپ پہلے بھی آئے اور ایک عرصہ کے بعد آپ رخصت ہو گئے اور حضرت سیح آپ سے پہلے بھی رہے اور آخر پر بھی وہی رہے۔غرض اس عقیدہ کے ماننے سے کہ خود ہی حضرت مسیح آنے والے ہیں بہت سے مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور ختم نبوت کا انکار کرنا پڑتا ہے جو کفر ہے۔احکام جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۴،۳) وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن کے معنے ہی ان کے نزدیک یہی ہیں کہ الہام کا دروازہ آپ کے بعد ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور آپ کے بعد آپ کی امت سے یہ برکت کہ کسی کو مکالمات اور مخاطبات ہوں بالکل اُٹھ گئی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر صدی اس امر کی منتظر ہوتی ہے کہ اس امت میں سے چند افراد یا