تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 382
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۲ سورة الاحزاب این نبود کدام فرق در نصاری و اسلام است آں ہوتا تو نصرانیت اور اسلام میں کیا فرق رہ جاتا۔وہ بھی مرده و این ہم مردہ۔آں قصہ و حکایت است مردہ اور یہ بھی مردہ۔وہ بھی قصہ کہانی اور یہ بھی قصہ ایں ہم قصہ و حکایت است اندر میں صورۃ فیصلہ کہانی۔اس صورت میں فیصلہ کس طرح ہو۔خدا تعالیٰ چگونه شود خدا تعالی اراده فرماید کہ آں برکات نے ارادہ فرمایا ہے کہ وہ برکات سماوی کو ظاہر کرے۔اور تاویه نماید و اگر مردے مثل آں ( نبی صلی اللہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا آدمی نہیں آتا تو ان کے واً علیه وسلم) نمی آید چگونه بنماید ایں ہمہ کا ر خدا برکات کو کیسے دکھائے گا۔یہ سب کام خدا کا ہے ہم سب است ما بندگانیم و هیچ امید فتح و شکست نداریم او اس کے بندے ہیں ہمیں فتح و شکست کی کوئی امید نہیں وہ مصلحتی کہ خوب جانتا ہے کہ کون شوریدہ سر ہے وہ اپنی مصلحت کی خوب میدانند که کدام شوریدہ است خواہد کرد۔(البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۵/ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۳۷) خاطر جو چاہے گا کرے گا۔(ترجمہ از مرتب) براہین میں ایسے الہامات موجود ہیں جن میں نبی یا رسول کا لفظ آیا ہے چنانچہ هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ پالھدی اور جَرِقُ الله في محلل الأَنْبِيَاءِ وغیرہ۔ان پر غور نہیں کرتے اور پھر افسوس یہ نہیں سمجھتے کہ ختم نبوت کی مہر مسیح اسرائیلی کے آنے سے ٹوٹتی ہے یا خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے۔ختم نبوت کا انکار وہ لوگ کرتے ہیں جو مسیح اسرائیلی کو آسمان سے اتارتے ہیں اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں نہ نیا نبی نہ پرانا نبی بلکہ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۴ مورخه ۱۳۰ نومبر ۱۹۰۱ ء صفحه ۲) یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرما یا انا اعطينك الكوثر (الكوثر (۲) اس وقت کی بات ہے کہ ایک کا فر نے کہا کہ آپ کی اولاد نہیں ہے معلوم نہیں اس نے ابتر کا لفظ بولا تھا جو اللہ تعالیٰ نے فرما یا اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأبتر ( الكوثر (۴)۔تیرا دشمن ہی بے اولا در ہے گا۔روحانی طور پر جو لوگ آئیں گے وہ آپ ہی کی اولاد سمجھے جائیں گے اور وہ آپ کے علوم و برکات کے وارث ہوں گے اور اس سے حصہ پائیں گے۔اس آیت کو مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِین کے ساتھ ملا کر پڑھو تو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولا د بھی نہیں تھی تو پھر معاذ اللہ آپ ابتر ٹھہرتے ہیں جو آپ کے اعداء کے لئے ہے اور