تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 376

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الاحزاب نبوت ختم ہو گئی۔تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔ایسا ختم قابل فخر نہیں ہوتا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپ پر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔یعنی وہ تمام کمالات متفرقہ جو آدم سے لے کر مسیح ابن مریم تک نبیوں کو دیئے گئے تھے۔کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی۔وہ سب کے سب آنحضرت صلعم میں جمع کر دیئے گئے اور اس طرح پر آپ طبعاً خاتم النبین ٹھیرے اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں وہ قرآن شریف پر آکر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم الکتب ٹھیرا۔اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے یہ ہم پر افترائے عظیم ہے ہم جس قوت یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ الن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی وہ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے اور اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں وہ نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ؟ مگر ہم بصیرت تام سے ( جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلا یا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا بجز ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔دنیا کی مثالوں میں سے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پر آکر اس کا کمال ہو جاتا ہے جبکہ اسے بدر کہا جاتا ہے اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔جو یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت زبر دستی ختم ہوگئی اور آنحضرت کو یونس بن متی پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہیے انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی ان کو نہیں ہے باوجود اس کمزوری فہم اور کمی علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اور ان پر کیا افسوس کروں اگر ان کی یہ حالت نہ ہو گئی ہوتی اور حقیقت اسلام سے بکلی دور نہ جا پڑے ہوتے تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی ؟ ان لوگوں کی ایمانی حالتیں بہت کمزور ہوگئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض ناواقف ہیں