تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 370

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الاحزاب جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔یہ تو ممکن ہے کہ کلام الہی کے معنے کرنے میں بعض مواضع میں ایک وقت تک مجھ سے خطا ہو جائے۔مگر یہ ممکن نہیں کہ میں شک کروں کہ وہ خدا کا کلام نہیں۔اور چونکہ میرے نزدیک نبی اُسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔شریعت کا حامل قیامت تک قرآن شریف ہے۔تجلیات البیه، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲) وَإِنْ قَالَ قَائِلٌ كَيْفَ يَكُونُ نَبِيٌّ مِنْ اگر کوئی یہ کہے کہ اس امت میں نبی کیسے آسکتا ہے هذِهِ الْأُمَّةِ وَقَد خَتَمَ اللهُ عَلَى النُّبُوَّةِ؟ جب کہ اللہ نے نبوت پر مہر لگا دی ہے تو اس کا جواب یہ فَالْجَوَابُ إِنَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَلمى هَذَا ہے کہ الله عز وجل نے آنے والے موعود کا نام نبی الرَّجُل نَبِيًّا إِلَّا لإثْبَاتِ كَمَالِ نُبُوَّةِ ہمارے آقا خیر البشر کی نبوت کے کمال کو ثابت کرنے سَيّدِنَا خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، فَإِنَّ ثُبُوتَ كَمَالِ کے لئے رکھا ہے کیونکہ آپ کا کمال امت کے کمال کے النَّبِي لَا يَتَحَقِّقُ إِلَّا بِذُبُوتِ كَمَالِ الْأُمَّةِ، بغیر ثابت نہیں ہوسکتا۔اس کے سوا کمال کا دعویٰ محض وَمِن دُونِ ذَالِكَ ادْعَاء مخض لا دَلِيْلَ دعوی ہی ہے جس پر عقلمندوں کے نزدیک کوئی دلیل نہیں مَحْضُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْفِطْنَةِ، وَلا مَعْلى يختم اور کسی فرد پر نبوت کے ختم ہونے کے معنے اس کے سوا النُّبُوَّةِ عَلى فَرْدٍ مِنْ غَيْرِ أَن تُختتم اور کچھ نہیں ہوتے کہ اس پر کمالات نبوت ختم ہو گئے كَمَالَاتُ النُّبُوَّةِ عَلى ذَالِكَ الْفَرْدِ، وَمِن ہیں اور بڑے بڑے کمالات میں سے نبی کا بڑا کمال الْكَمَالَاتِ الْعُظمى كَمَالُ النَّبِي في اس کی قوت افاضہ ہے جو امت میں پائے جانے والے الإفاضَةِ، وَهُوَ لا يَفْسُتُ مِنْ غَيْرِ نموذج نمونہ کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتی۔اس کے ساتھ ہی يُوجَدُ فِي الْأُمَّةِ ثُمَّ مَعَ ذَالِكَ ذَكَرْتُ غَيْرَ میں نے کئی دفعہ اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مَرَّةٍ أَنَّ اللهَ مَا أَرَادَ مِنْ نُبُوتِي إِلَّا كَفَرَةَ نزدیک میری نبوت سے مراد صرف کثرت مکالمه مخاطبہ الْمُكَالَمَةِ وَالْمُخَاطَبَةِ، وَهُوَ مُسَلَّمْ عِنْدَ ہے اور یہ بات اکابر اہل سنت کے نزدیک بھی مسلم ہے أكابر أَهْلِ السُّنَّةِ فَالرِّزَاعُ لَيْسَ إِلَّا پس نزاع صرف لفظی ہی ہے۔اے ارباب عقل و خرد!