تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 369
۳۶۹ سورة الاحزاب تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہیں اور لعنت ہے اُس شخص پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے علیحدہ ہو کر نبوت کا دعوی کرے مگر یہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہے نہ کوئی نئی نبوت اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ اسلام کی حقانیت دنیا پر ظاہر کی جائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی دکھلائی جائے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲۱،۳۳۹) ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلا شبہ وہ بے دین اور مردود ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ابتدا سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات متعدیہ کے اظہار اور اثبات کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الہیہ بخشے کہ جو اُس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کر دے سو اس طور سے خدا نے میرا نام نبی رکھا یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہوگئی اور ظلی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا تا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۴۰ حاشیه ) نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ حاصل کرے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو۔یہ نہیں کہ وہ کوئی دوسری شریعت لاوے کیونکہ شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر نبی کے لفظ کا اطلاق بھی جائز نہیں جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اُس نے آنحضرت کی پیروی سے پایا ہے نہ براہ راست۔نہ تجلیات البیہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۱ حاشیه ) اب بجز محمدی نبوت کے سب نبو تھیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔پس اسی بنا پر میں اُمتی بھی ہوں اور نبی بھی۔اور میری نبوت یعنی مکالمہ مخاطبہ الہیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ظل ہے اور بجز اس کے میری نبوت کچھ بھی نہیں وہی نبوت محمد یہ ہے جو مجھ میں ظاہر ہوئی ہے۔اور چونکہ میں محض ظل ہوں اور امتی ہوں اس لئے آنجناب کی اِس سے کچھ کسر شان نہیں۔اور یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کا فر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے ہے۔اور