تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 8
سورة المؤمنون تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرے گی کہ حمل ضرور ہو گیا ہے۔پس ایسا ہی خشوع اور سوز و گداز کی حالت گووہ کیسی ہی لذت اور سرور کے ساتھ ہو خدا سے تعلق پکڑنے کے لئے کوئی لازمی علامت نہیں ہے لہ۔یعنی کسی شخص میں نماز اور یاد الہی کی حالت میں خشوع اور سوز وگداز اور گریہ وزاری پیدا ہونا لازمی طور پر اس بات کو مستلزم نہیں کہ اس شخص کو خدا سے تعلق بھی ہے۔ممکن ہے کہ یہ سب حالات کسی شخص میں موجود ہوں مگر ابھی اس کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہ ہو۔جیسا کہ مشاہدہ صریحہ اس بات پر گواہ ہے کہ بہت سے لوگ پند و نصیحت کی مجلسوں اور وعظ و تذکیر کی محفلوں یا نماز اور یا دالہی کی حالت میں خوب روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اورسوز وگداز ظاہر کرتے ہیں اور آنسوان کے رخساروں پر پانی کی طرح رواں ہو جاتے ہیں بلکہ بعض کا رونا تو منہ پر رکھا ہوا ہوتا ہے۔ایک بات سنی اور وہیں رود یا۔مگر تا ہم لغویات سے وہ کنارہ کش نہیں ہوتے اور بہت سے لغو کام اور لغو باتیں اور لغو سیر و تماشے اُن کے گلے کا ہار ہو جاتے ہیں۔جن سے سمجھا جاتا ہے کہ کچھ بھی اُن کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں اور نہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت کچھ اُن کے دلوں میں ہے۔پس یہ عجیب تماشا ہے کہ ایسے گندے نفسوں کے ساتھ بھی خشوع اور سوز و گداز کی حالت جمع ہو جاتی ہے۔اور یہ عبرت کا مقام ہے اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مجرد خشوع اور گریہ وزاری کہ جو بغیر ترک لغویات ہو کچھ فخر کرنے کی جگہ نہیں اور نہ یہ قرب الہی اور تعلق باللہ کی کوئی علامت ہے۔بہت سے ایسے فقیر میں نے بچشم خود دیکھے ہیں اور ایسا ہی بعض دوسرے لوگ بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ کسی دردناک شعر کے پڑھنے یا دردناک نظارہ دیکھنے یا دردناک قصہ کے سننے سے اس جلدی سے ان کے آنسو گرنے شروع ہو جاتے ہیں جیسا کہ بعض بادل اس قدر جلدی سے اپنے موٹے موٹے قطرے برساتے ہیں کہ باہر سونے والوں کو رات کے وقت فرصت نہیں دیتے کہ اپنا بستر بغیر تر ے ابتدائی حالت میں خشوع اور رقت کے ساتھ ہر طرح کے لغو کام جمع ہو سکتے ہیں۔جیسا کہ بچہ میں رونے کی عادت بہت ہوتی ہے اور بات بات میں ڈر جاتا اور خشوع اور انکسار اختیار کرتا ہے مگر با ایں ہمہ بچپن کے زمانہ میں طبعاً انسان بہت سے لغویات میں مبتلا ہوتا ہے اور سب سے پہلے لغو باتوں اور لغو کاموں کی طرف ہی رغبت کرتا ہے اور اکثر لغوحرکات اور لغوطور پر کو دنا اور اچھلنا ہی اس کو پسند آتا ہے جس میں بسا اوقات اپنے جسم کو بھی کوئی صدمہ پہنچا دیتا ہے اس سے ظاہر ہے کہ انسان کی زندگی کی راہ میں فطرتا پہلے لغویات ہی آتے ہیں اور بغیر اس مرتبہ کے طے کرنے کے دوسرے مرتبہ تک وہ پہنچ ہی نہیں سکتا۔پس طبعا پہلا زینہ بلوغ کا بچپن کے لغویات سے پر ہیز کرنا ہے سو اس سے ثابت ہے کہ سب سے پہلا تعلق انسانی سرشت کو لغویات سے ہی ہوتا ہے۔منہ